تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 402
تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہرگروہ کفار میں سے ان کے سرکردہ لوگوں کو خاص سزا دینے کے لئے الگ کرلیا جائے گا۔اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا میں علیٰ کے معنے خلاف کے ہیں یعنی وہ لوگ جو خدائے رحمٰن کے خلاف سب سے زیادہ سرکشی اور تمرد اختیار کرنے والے ہوں گے۔اس کے بعدفرمایا ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا اورہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو آگ کے عذاب کے زیادہ مستحق ہیں۔ان آیات میں پہلا ثُمَّ ترتیب کے لحاظ سے ہے اور دوسرا ثُمَّ خالص عطف پر دلالت کرتاہے اور یہ پہلے مضمون کی تشریح ہے کہ ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا یہ ثُمَّ ایسا ہی ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ ’’اور بات یہ ہے ‘‘اس کا یہ مطلب نہیں ہوتاکہ پہلی بات کے بعد یہ بات ہوئی بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ اس بات کے ساتھ ہی ایک یہ بات بھی ہے اسی مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا ایک یہ بات بھی ہے کہ ہم سب سے زیادہ ان لوگوں کو جانتے ہیں جو اس آگ میں پڑنے کے زیادہ مستحق ہیں۔غرض پہلاثُمَّ یعنی ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ میں جو ثُمَّ آیاہے وہ ترتیب کے لحاظ سے ہے یعنی پہلے واقعہ کے بعد یہ ہوگا لیکن ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ میں درجہ مراد ہے کیونکہ ثُمَّ کا لفظ عربی زبان میں زمانہ ؔاور مکانؔ اور وضعؔ کی ترتیب کے لئے بھی آتاہے اور مراد یہ ہے کہ ہم خوب جانتے ہیںکہ ان کے مدارج کفر کیا ہیں اور کون کس مقام پر رکھے جانے کے قابل ہے۔کیونکہ علم الٰہی نزوع کے بعد نہیں آتابلکہ وقت کے لحاظ سے علم عمل سے پہلے ہوتاہے۔پس یہاں ثُمَّ سے مراد بعد نہیں ہوسکتا کیونکہ فرماتا ہےثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ پس یہ جاننا درجہ کے لحاظ سے ہے وقت کے لحاظ سے نہیں۔پہلے فرمایا کہ ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا ہم کفار کے ہرگروہ میں سے ان کے بڑے بڑے لیڈروںکو نکال لیں گے۔پھرکہا کہ بات تو یہ ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کون اس عذاب کا زیادہ مستحق ہے اور جاننا ہمیشہ کام سے پہلے ہوتاہے۔تم پہلے ایک بات کو جانتے ہو اور پھر کام کرتے ہو۔تم نے لاہور جانا ہے توپہلے تمہارے دل میں لاہور جانے کا خیال آئے گا اور پھر تم لاہور جائوگے۔تم نے مدرسہ جانا ہے تو پہلے مدرسہ جانے کا خیال آئے گا اور پھر تم مدرسہ جائو گے۔تم نے کھانا کھانا ہے تو پہلے تمہارے دل میںکھانا کھانے کاخیال آئے گا اورپھر کھانا کھائو گے۔تو جب بھی انسان کوئی کام کرنے لگے گا علم پہلے ہوگا اورکام بعد میںہوگا۔مگر یہاں علم سے پہلے ثُمَّ کالفظ ہے اور چونکہ علم ہمیشہ پہلے ہوتاہے اورکام بعد میں ہوتاہے اس لئے پتہ لگ گیا کہ یہ ثُمَّ درجہ کے لحاظ سے ہے یعنی ہم اس بات کو خوب جانتے ہیںکہ کون کس عذاب کا مستحق ہے۔پس یہاں یہ مر اد نہیں کہ یہ بات پہلے فعل کے بعد ہوگی۔بلکہ یہ مراد ہے کہ جولوگ درجہ کفر میں بڑے ہیں ان کو پہچاننا تو ہمارے علم کا حصہ ہے۔اَيُّهُمْ اَشَدُّ کے متعلق مفسرین نے بحث کی ہے کہ یہاں اَیَّھُمْ چاہیے تھا لیکن آیااَيُّهُمْ ہے اس کے متعلق خلیل کہتاہے کہ یہ رفع حکایت کی وجہ سے آیا ہے اور مراد یہ ہے ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ الَّذِیْنَ یُقَالُ مِنْھُمْ اَيُّهُمْ اَشَدُّ یعنی ہم ایسے لوگوں کو جن کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ وہ سب سے زیادہ سرکش اور متمرد ہیں دوسروں سے علیحدہ کرلیں گے لیکن بعض نے کہا ہے کہ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ میں نَنْزِعَنَّ کا مفعول مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ آچکاہے اور اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا ایک زائد مستقل جملہ ہے۔اور مراد یہ ہے کہ پوچھنے والا پوچھتا ہے ’’وہ کون ہیں ‘‘تو اس کا جواب ملتاہے اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا یعنی جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہم ہرگروہ کفار میں سے ایک جماعت کو الگ کرلیںگے تو پوچھنے والا پوچھتاہے وہ کو ن لوگ ہیں اس پر وہ کہتاہے اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا