تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 403

خلیل کہتاہے کہ یہ رفع حکایت کی وجہ سے آیا ہے اور مراد یہ ہے ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ الَّذِیْنَ یُقَالُ مِنْھُمْ اَيُّهُمْ اَشَدُّ یعنی ہم ایسے لوگوں کو جن کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ وہ سب سے زیادہ سرکش اور متمرد ہیں دوسروں سے علیحدہ کرلیں گے لیکن بعض نے کہا ہے کہ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ میں نَنْزِعَنَّ کا مفعول مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ آچکاہے اور اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا ایک زائد مستقل جملہ ہے۔اور مراد یہ ہے کہ پوچھنے والا پوچھتا ہے ’’وہ کون ہیں ‘‘تو اس کا جواب ملتاہے اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا یعنی جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہم ہرگروہ کفار میں سے ایک جماعت کو الگ کرلیںگے تو پوچھنے والا پوچھتاہے وہ کو ن لوگ ہیں اس پر وہ کہتاہے اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا بعض نے کہا ہے کہ اس کی ایک قرأت اَیَّھُمْ بھی آتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہرگروہ میں سے جو خداکے زیادہ منکر ہیں ان کو نکال لیاجائے گا۔(تفسیر قرطبی زیر آیت ھٰذا) صِلِيًّاکے معنے صرف آگ میںجل جانے کے نہیں بلکہ جو شخص آگ کی گرمی سے متاثر ہو اس کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کرلیا جاتاہے چنانچہ کہتے ہیں صَلِیَ النَّارَ وَ بِھَا قَاسٰی حَرَّھَا اَوِ احْتَرَقَ یعنی صَلِیَ النَّارَ وَبِھَاکے یہ معنے ہوتے ہیںکہ اس نے آگ کی گرمی محسوس کی یا اس سے جل گیا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ نے اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا کیوں کہا اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّاکے یہاں دو معنے ہوسکتے ہیں۔ایک یہ کہ یہ لوگ دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں آگ میں پڑنے کے اور دوسرے یہ کہ بہ نسبت دوسری چیز وںکے یہ لوگ آگ میں پڑنے کے زیادہ مستحق ہیں یعنی اَوْلٰى بِالنَّارِ صِلِيًّا یا اَوْلی النّاس بِالنَّار بہ نسبت اور چیزوںکے یہ آگ میں پڑنے کے زیادہ مستحق ہیں یا بہ نسبت اور لوگوں کے یہ آگ کے عذاب کے زیادہ مستحق ہیں۔پس سوال پیدا ہوتاہے کہ وہ دوسرے کون ہیں جن کے مقابل پر یہ آگ کے زیادہ مستحق ہیں یا دوسری کونسی عذاب کی اقسام ہیں جن کے مقابل پر یہ آگ کے زیادہ مستحق ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اصحاب تثلیث کا ذکر ہے اور قرآن کریم سے پتہ لگتاہے کہ اصحاب تثلیث کی ترقی کا زیادہ تر تعلق آلات نار سے ہوگا اور وہ اپنے مخالفوںکو بھی زیادہ تر آلات نارسے ہی ڈرائیں گے۔مثلاًبندوق ہے۔توپ ہے، بم ہے، یا اب ایٹم بم نکل آیا ہے۔ان سب میں آگ سے کام لیا جاتاہے۔اس سے پہلے لوگ لوہے سے کام لیتے تھے مثلاًتلوار تھی ،نیزہ تھا ،ہتھوڑے تھے ، گرز تھے اور یا پھر پتھر اور غلیل وغیرہ سے کام لیتے تھے لیکن یاجوج وماجوج کا زمانہ آیا تو انہوں نے آگ سے کام لینا شروع کردیا۔ان کے ناموں میں بھی اس طرف اشارہ کیاگیا تھا۔چنانچہ یہ دونوںلفظ اَجَّ سے نکلے ہیں جس کے معنے آگ کے ہیں(اقرب) گویا یاجوج و ماجوج ان کا اس