تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 401
کوشش کرتاہے یعنی وہ ایسے افعال پسند کرتاہے جو اسے جہنم کے قریب لے جانے کا موجب ہوتے ہیں۔مگر جب جہنم اسے نظر آتاہے تو اس کی بری شکل ہوجاتی ہے اور وہ کہتاہے اوہو یہ تو بہت برا مقام ہے۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے جَثَایَجْثُوْ کے معنے ہوتے ہیں گھٹنوں کے بل گرجانا یا انگلیوں کے بل کھڑاہوجانایعنی انسان جب کسی چیز کو اپنی ایڑیاں اٹھاکر اور انگلیوںکے بل کھڑے ہوکر دیکھنے کی کوشش کرتاہے تو اس حالت کو جِثِیًّا کہتے ہیںاور جب وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتاہے جیسے تشہد کی حالت میں بیٹھتے ہیں تو اس حالت کو بھی جِثِیًّاکہتے ہیں اس جگہ یہ دونوں معنے چسپاں ہوجاتے ہیں کیونکہ جہنم کا ذکر ہے اور انسانی فطرت میںیہ بات داخل ہے کہ جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پہلے وہ اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور انگلیوں کے بل کھڑے ہو کر جھانگتاہے کہ کیا چیز آرہی ہے یا کونسی مصیبت ہے جس میں مَیں گرفتار ہونے والا ہوں مگر جب وہ مصیبت کو دیکھ لیتا ہے تو اس کی طاقت زائل ہوجاتی ہے اور وہ گھٹنوں کے بل گرجاتاہے۔ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ پھر ہم ہر ایک گروہ میں سے ایسے لوگوں کو الگ کرلیں گے جو (خدائے ) رحمٰن کے سخت دشمن تھے۔اور ہم عِتِيًّاۚ۰۰۷۰ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِيْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِيًّا۰۰۷۱ خوب جانتے ہیںکہ ان میں سے کون دوزخ میں جانےکے زیادہ قابل ہے۔حلّ لُغَات۔الشِّیْعَةُ کے معنے ہیں اَلْفِرْقَۃُ گروہ (اقرب)۔ثُمَّ حَرْفُ عَطْفٍ۔یَدُلُّ عَلَی التَّرْتِیْبِ وَالتَّرَاخِی یعنی ثُمَّ حرف عطف ہے جو کبھی ترتیب کے بیان کرنے کے لئے آتاہے اور کبھی یہ بتانے کےلئے کہ یہ کام دیر سے ہوا ہے (اقرب) صِلِّیٌّ۔صَلِیَ النَّارَ کے معنے ہوتے ہیں قَاسٰی حَرَّھَا وَ احْتَرَقَ بِھَا وَ دَخَلَ فِیْھَا کہ آگ کی گرمی برداشت کی اور اس میںجلا اور اس میں داخل ہوا (اقرب) صِلِیٌّمصدر ہے گویا اس کے معنے ہوںگے آگ میںجلنا یا اس کی گرمی برداشت کرنا۔تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہرگروہ کفار میں سے ان کے سرکردہ لوگوں کو خاص سزا دینے کے لئے الگ کرلیا جائے گا۔اَيُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِيًّا میں علیٰ کے معنے خلاف کے ہیں