تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 391
کیا جائے گا کہ یہ تمہارا حق ہے۔جس طرح اولاد کا باپ کے مال پر حق ہوتاہے۔صرف یہ فرق ہوگا کہ وہ اپنے باپ کی زندگی میں ہی وارث ہوں گے۔پس چونکہ اس جگہ نُوْرِثُ کہہ کر ہر مومن کو خدا تعالیٰ کا بیٹا اور جنت کو عطاء میراث قرار دیا گیا تھا اس لئے جب خدا تعالیٰ نے یہ بتایاکہ وہاں مومنوں کو سلام پہنچایاجائے گا تو طبعاً ہر مومن کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ جب میں بیٹا بن گیا تو یہ سلام تو باپ کی طرف سے ہونا چاہیے۔سو اس طبعی خیال کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان سلام پہنچانےوالے ملائکہ کی طرف سے یہ جواب دیا کہ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ اے مومن ہم یہ سلام تیرے باپ کی طرف سے ہی تجھے پہنچارہے ہیں ،ہم اپنی طرف سے نہیںکررہے۔بے شک جنت میں سلام ہم پہنچائیں گے مگر ہوگا تمہارے باپ کی طرف سے ہی۔کیونکہ ہم فرشتے تو خود کوئی بات کرہی نہیںسکتے پس تم نُوْرِثُ پر گھبراکر یہ خیال نہ کرو کہ جب خدا ہمارا باپ بن گیا اور ہم اس کے بیٹے بن گئے تو پھر فرشتے یہ سلام کیوں پہنچارہے ہیں۔یہ سلام تو ہمارے باپ کی طرف سے آنا چاہیے ، یہ سلام تمہارے باپ کی طرف سے ہی ہے ہم تو صرف اس کا سلام پہنچانے والے ہیں۔یہ مضمون ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔یہاں اس ذکر کا کوئی موقع ہی نہیںکہ جبریل کچھ عرصہ نہ اُتراتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبراگئے اور اس پر آپ کو یہ الہام ہوا۔یہ بالکل بے جوڑ بات ہے۔اصل مضمون یہی ہے کہ جب فرشتے سلام لائیں گے تو مومنوںکے دلوں میں خیال پیدا ہوگاکہ یہ کیسا سلام ہے۔آیا یہ ہمارے باپ کی طرف سے ہے یا کسی اورکی طرف سے۔اس کا فرشتے یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ سلام تمہارے روحانی باپ نے ہی بھیجا ہے ہم تو صرف ایک پیغامبر ہیں۔لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ اور یہ اتنا قیمتی تحفہ اس کی طرف سے آیا ہے کہ اس نے اس کی حفاظت کے لئے ہمارے آگے اور پیچھے پہریدار مقرر کردئیے ہیں تاکہ یہ ضائع نہ ہوجائے۔وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا اور یہ کس طرح ہوسکتاتھاکہ خدا تعالیٰ اپنی روحانی اولاد کو اپنے گھر میں اتارے اور اس کو سلام بھجوانا بھول جائے جس طرح تم نے خدا سے محبت کی اور اسے نہیں بھلایا اسی طرح اس نے بھی تم کو یادرکھااور اپنے فرشتوں کو بھیجاکہ جائو اور میری طرف سے سلام پہنچاآئو۔لیکن اس مضمون کے علاوہ ایک اور بھی مضمون ہے جس کی طرف ان آیات میںاشارہ کیاگیاہے اور وہ یہ کہ سورئہ مریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کران کی اولاد تک کے انبیاء کا ذکر ہے جن میں حضرت موسیٰ ؑبھی شامل ہیں جن کی کتاب میں علاوہ اپنی وحی کے حضرت ابراہیم ؑ اوران کی اولاد کے کوائف بھی درج ہیں۔جب