تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 390
خدا تعالیٰ کی طرف بھی ایسی باتیں منسوب کردیتاہے جو اس کی شان کے منافی ہوتی ہیں۔اب میں بتاتاہوں کہ یہ کتنا سیدھا سادہ مضمون ہے جس کو ہمارے مفسرین نے اتنا بے جوڑ بنادیا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات میں بیان فرمایا تھاکہ لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا یعنی لغو تو جنتیوں کے پاس بھی نہیں پھٹکے گاہاں سلام ہر جگہ ہوگا۔یہ سلام کیا ہوتاہے ؟ ہر شخص جانتاہے کہ السلام علیکم کو سلام کہا جاتاہے۔پس لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا کے یہ معنے تھے کہ انہیں کثرت کے ساتھ سلام پہنچایا جائے گا مگر یہاں یہ نہیں بتایا کہ وہ کس کا سلام ہوگا۔اس لئے ہم قرآن کریم کے دوسرے مقامات کو دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں اس کی تشریح نظر آتی ہے۔سورئہ فرقان میں آتاہے يُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّ سَلٰمًا (الفرقان:۷۶) جنتیوں کو تحیہ اور سلام پہنچایا جائے گا۔گویا وہی مضمون جو اس جگہ بیان کیا گیا ہے اسی کو ایک دوسرے پیرایہ میں سورئہ فرقان میں بیان کردیا گیاہے۔اسی طرح سورئہ رعد میں آتاہے وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد:۲۴، ۲۵)یعنی وہاں ہردروازے سے ملائکہ جنت میں داخل ہوں گے اور انہیں کہیں گے کہ تم نے دنیا میں جو خدا تعالیٰ کے لئے صبر کیا تھا اس کے بدلہ میں ہم تمہیںسلامتی پہنچاتے ہیںاور یہ آخری گھر جو تم کو ملا ہے کیا ہی اچھا گھر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے جنتیوں کے پاس آئیں گے اور انہیں سلام پہنچائیںگے اب جہاں تک یہ سوال تھا کہ سلام کون پہنچا ئے گا یہ تو حل ہوگیا اور پتہ لگ گیا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے مومنوں کو سلام پہنچائیں گے۔مگر یہاں ایک نئی بات پیدا کردی گئی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا یہ وہ جنتیں ہیں جن کا ہم اپنے متقی بندوں کو وارث بنائیںگے اور وارث ہمیشہ بیٹا ہوتاہے کوئی غیر نہیں ہوتا۔پس درحقیقت اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بتایا ہے کہ ہر متقی خدا کا بیٹا ہے اور جنت خدا کا گھر ہے جس میں ان متقیوں کو اتارا جائےگا گویا یہاں ایک نیا مضمون بیان کیا گیا ہے۔پہلے سلام کا ذکر کیا اور پھر بتایا کہ ہمارا مومن اور متقی بندہ مہمان کے طور پر جنت میں نہیں جائےگا۔دوست کے طورپر جنت میں نہیں جائے گا۔سائل کے طور پر جنت میں نہیںجائے گا بلکہ ہم اسے اپنا بیٹا قراردے کر اور وارث بنا کر جنت میں داخل کریںگے اورکہیں گے کہ جائو اور اس میں ہمیشہ کے لئے رہو۔اس میں ایک طرف تو مسیح کے بیٹے ہونے کی خصوصیت کو رد کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہرمومن خدا تعالیٰ کا بیٹاہے۔دوسرے اس طرف اشارہ کیاہے کہ جنت کی جو نعمتیں ملیںگی وہ بطور حق اور اکرام کے ہوں گی۔ورنہ عطاء تو فقیر کو بھی ملتی ہے۔پس یہ عطاءاپنے اندر صدقہ کا رنگ نہیںرکھے گی۔بلکہ یہ عطاء میراث ہوگی اور اس کے لینے والے پر ظاہر