تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 392

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ فرمایا تو عیسائیوں اور یہودیوں نے اعتراض کیا کہ نبی تو بنی اسرائیل میں سے آنا چاہیے اور یعقوب کی نسل میں سے ہونا چاہیے۔یہ نبی عربوںمیں سے کس طرح آگیا ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبانی دیا کہ ہم تو اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔اس نے عرب کی طرف ہم کو بھیجا ہم ان کی طرف آگئے وہ اسرائیل کی طرف بھیجتا تھا تو ہم ادھر چلے جاتے تھے۔پس یہ اعتراض کیاہے؟ یہ اعتراض توہوسکتاتھا کہ نبیوں والی باتیں اس میں نہیں پائی جاتیںلیکن یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ ایک عرب پر کلام کیسے نازل ہوگیا۔کیونکہ کلام خدا کے حکم سے اترتاہے اور جن پر خدا کا کلام اترتاہے ان کوجنات ارضی و اخروی عطا کی جاتی ہیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ کو کنعان ملا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا عرب بھی ملا فلسطین بھی ملا اور ساری دنیا بھی ملی۔اس کے آگے فرمایا۔’’ تیرا رب بھولنے والا نہیں ‘‘یعنی اس نے موسیٰ کے ذریعہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے بھی یعنی بنو اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجا جائے گا۔اور یسعیاہ نبی کے ذریعہ سے اس نے کہا تھا کہ عرب میں بھی خدا کاکلام اترے گا پھر یہ کس طرح ہوسکتاتھاکہ خدا کی دونوں باتیںجھوٹی ہوتیں۔خدا تعالیٰ بھولتانہیں۔عیسائی اور یہودی بے شک بھول جائیں مگر خدا تعالیٰ نہیں بھولاکہ اس نے موسیٰ سے کیا کہا تھا۔جب اس نے کہا تھا کہ ’’میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوںگا اور جو کچھ میں اسے حکم دوںگا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوںگا ‘‘(استثنا ء باب ۱۸آیت ۱۸و۱۹) تووہ اس کو کس طرح بھول سکتا تھا۔اسی طرح وہ اس وحی کو نہیں بھول سکتا تھا جو یسیعاہ نبی پر نازل ہوئی کہ عرب میںبھی الہامی کلام اترے گا (یسیعاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا۱۷ ورباب ۹آیت ۶و۷ ) اسی طرح وہ اس وحی کو بھی نہیں بھول سکتاتھا جو اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو کی اور جس کے مطابق انہوں نے اپنے حواریوں سے کہا کہ ’’ مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گالیکن جو کچھ سنےگا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریںدےگا۔’’ (یوحناباب۱۶آیت۱۲،۱۳) پس اس نبی کاآنا ضروری تھاجو سب روحانی راز دنیا کو بتادے۔