تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 389
اور ذوالقرنین اور روح کے متعلق لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے ان سوالات کے جلد جواب دینے کا وعدہ کیا مگر جبرائیل کے آنے میں دیر ہوئی جس سے آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔جب کچھ مدت کے بعد وہ پھر آیا تو آپ نے اس سے شکایت کی کہ ارے میاں تم نے ہمیں کیوں چھوڑ دیا ؟اس نے کہا ہم اپنی مرضی سے تھوڑاآتے ہیں ہمیں خدا بھیجتاہے تو ہم آجاتے ہیں نہیں بھیجتا توہم نہیں آتے (روح المعانی زیر آیت ھٰذا)۔قطع نظر اس سے کہ ایسا ہوا ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ اس گفتگو کے ذکر کا یہ موقع کونسا ہے ؟ ذکر یہ تھا کہ عیسیٰ ؑ ہمارا ایک پیارا بندہ تھا مگر وہ خدایا خدا کا بیٹا نہیں تھا۔اسی جیسی خوبیاں رکھنے والے اور بھی کئی انبیا ء دنیا میں آئے اورپھر عیسیٰ ؑ تو محض ایک کڑی تھا اس سلسلہ کی جو نسل اسحاق سے شروع ہوا اسے تم آخری نجات دہندہ کس طرح قرار دے سکتے ہو۔اگر وہ آخری وجود تھا تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ اسماعیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے کئے تھے وہ سب کے سب جھوٹے ہوگئے پھر بتایا کہ ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور موسیٰ اور ہارون اور اسماعیل اور ادریس یہ سب کے سب ہمارے نیک اور برگزیدہ بندے تھے اور ہماری جنت کے محتاج تھے۔اسی طرح عیسیٰ بھی ہماری جنت کا محتاج ہے مگر اس کے بعد ہمیں یہ بتایا جاتاہے کہ فرشتوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تو خداکے حکم سے نازل ہوئے ہیں وہ اگر ہمیں نازل نہ کرے تو ہمارا اس میں کیا قصور ہے۔حالانکہ اس کا پہلے مضمون سے کوئی جوڑ ہی نہیں بنتا۔اگر وہ قرآن کریم پر غور کرتے۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے اور قصے کہانیوں کے پیچھے نہ چلتے تو خدا ان کی راہنمائی کرتا اور ایسی خطرناک غلطیوںسے انہیں بچالیتا مگر مصیبت یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم پر غور کرنے کی بجائے قصوں اور کہانیوں کو اختیار کر لیا اور حقیقت سے دور ہوتے چلے گئے۔میں جب سورہ کہف کا درس دینے لگا اور میں نے اس سورۃ پر غور کیا تو اور سورۃ تو سب حل ہوگئی مگر ایک آیت کی مجھے سمجھ نہ آئی۔میں نے بہت سوچا اور غور کیا مگر وہ آیت مجھے بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی تھی۔آخر میں نے درس دینا شروع کردیا۔جوں جوں وہ آیت قریب آتی جائے میری گھبراہٹ بڑھتی چلی جائے کہ اب اس آیت کے متعلق کیا ہوگا۔یہاں تک کہ صرف دویاتین آیتیں رہ گئیں مگر پھر بھی وہ میری سمجھ میں نہ آئی اس وقت میری گھبراہٹ بہت زیادہ ہوگئی مگر جس وقت میں اس سے پہلی آیت پر پہنچا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ وہ آیت تو بالکل حل شدہ ہے اور اس کے نہایت صاف اور سیدھے معنے ہیں جن میں کسی قسم کی الجھن نہیں۔تو حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کی ترتیب کو مد نظر رکھا جائے اور اس پر غور اور تدبر کرنے کی عادت ڈالی جائے تو اس کی بہت سی مشکلات خود بخود حل ہوجاتی ہیں۔مگر جو شخص قصوں اور کہانیوں کے پیچھے چل پڑتا ہے اور تدبر فی القرآن کو ترک کردیتاہے وہ خود بھی گمراہ ہوتاہے اور