تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 388

اس آیت میں ایک اور نقطہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔اور وہ یہ کہ اس جگہ لغو کام کرنا نہیں کہا۔بلکہ لغو باتیں سننافرمایا ہے۔اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ ا نسان اپنی نسبت تو حسن ظنی سے کام لیتا ہے لیکن دوسرے کی نسبت عیب کو جلد سنتااور مشہور کرتاہے۔مگر وہاںلوگوں کی نیکی اس قدر ترقی یافتہ ہوگی کہ کوئی شخص دوسرے پر بدظنی نہیں کرے گا۔اور جس مقام پر کوئی شخص دوسرے کی نسبت ادنیٰ سے ادنیٰ بری بات بھی نہ سنے وہ جگہ یقیناً نیکی کا ایک اعلیٰ مقام ہو گی۔وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا اور اُن کےلئے اس میں رزق ہوگا صبح بھی اور شام بھی۔بعض نے اس کے یہ معنے کئے ہیںکہ چونکہ خدا تعالیٰ نے رزق کے متعلق اسراف منع کیا ہے اس لئے انہیں صرف دو وقت کھانا ملے گا ایک صبح کو اور ایک شام کو۔مگر یہ صحیح نہیں۔بُكْرَةً اور عَشِيًّا دونوں وسیع لفظ ہیں۔بُكْرَةً کے معنی صرف صبح کے نہیں بلکہ اوّل النہار یعنی دن کے ابتدائی حصہ کے بھی ہیں (لسان) اور عَشِيًّا صرف شام کونہیں کہتے بلکہ زوال شمس سے صبح تک کے وقت کو کہتے ہیں(اقرب) پس بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا سے یہ مراد ہے کہ ہر وقت ان کو رزق ملے گا۔ممکن ہے کوئی کہے کہ ہر وقت کوئی کس طرح کھا سکتاہے ؟۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ رزق کے معنے ہیں ’’دی جانے والی چیز ‘‘ اور وہ چیز جو انہیں وہاں ہروقت ملے گی وہ دیدار الٰہی کلام الٰہی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا پیغام ہے۔اور کلام الٰہی یا دیدار الٰہی کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس سے کسی کو بدہضمی ہونے کا ڈر ہو۔پھر یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وَ لَهُمُ الرِّزْقُ بلکہ فرمایا ہے وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ ان کو وہ رزق ملے گا جو ان کے مناسب حال ہوگا پس تم اس سے صر ف روٹی مراد نہ لو خدا تعالیٰ ان کے مناسب حال انہیں رزق عطافرمائے گا۔اور وہ رزق صرف صبح شام نہیں دے گا بلکہ ہر وقت دے گا۔تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے ان بندوں کو وارث کر دیں گےجو متقی ہیں۔وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَ مَا اور فرشتے ان سے کہیں گے کہ ہم تو صرف تمہارے رب کے حکم سے اترتے ہیں اور جو کچھ ہمارے آگے اور ہمارے خَلْفَنَا وَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّاۚ۰۰۶۵ پیچھے ہے اور جوکچھ ان دونوں (جہالت) کے درمیان میں ہے سب کچھ خدا کا ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔تفسیر۔ہمارے مفسرین اس جگہ یہ معنے کرتے ہیں کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کہ جب اصحاب کہف