تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 387

بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا۰۰۶۳تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا ان (جنتوں )میں ان کو صبح اور شام رزق ملے گا۔یہ وہ جنت ہے جس کاوارث ہم اپنے بندوں میں مَنْ كَانَ تَقِيًّا۰۰۶۴ سے ان کو کریں گے جو متقی ہوںگے۔تفسیر۔اِلَّا سَلٰمًا استثناء متصل بھی ہو سکتا ہے او ر استثناء منقطع بھی۔استثناء متصل کی صور ت میں اس کے یہ معنے ہوںگے کہ وہاں کا زائد کلام بھی اگر ہوگا تو وہ بھی سلامتی ہی ہوگا۔لغو کے معنے ہوتے ہیں ایسا کام جو فضول ہو (مفردات) مثلاًاگر کوئی بات مَیں ایک منٹ میں کرسکتا ہوں لیکن اس پر مَیں دو منٹ خرچ کردیتاہوں تو ایک منٹ کی گفتگو لغو سمجھی جائےگی میں نے دیکھا ہے بعض لوگ مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ جس مقصد کے لئے وہ آئے ہیں اس کے متعلق گفتگو شروع کریں وہ آتے ہی ایک لغو اور بے ہودہ قصہ شروع کردیں گے۔جس کا ان کے مقصد کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوگا۔کہیں گے ہم میرٹھ گئے تھے۔وہاں ہمارے فلاں شخص کے ساتھ بڑے گہرے تعلقات ہیں۔اس سے ایک روز میں ملنے کے لئے چلاگیا اور اس نے مجھ سے یہ یہ باتیں کیں پھر میرا فلاں شخص سے جھگڑاشروع ہوگیا اسی سلسلہ میں مجھے لاہور آنا پڑا یہاں آکر فلاں سے ملا پھر فلاں سے ملنے چلاگیا۔اس کے بعد ایک ضرورت پیش آئی اور میں نے چاہا کہ آپ سے بھی ملاقات کرلوں۔غرض اس طرح ایک لمبا قصہ بیان کرنا شروع کردیتے ہیں جس کا ان کی بات کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔تو انسان جب باتیں کرتاہے تو خواہ وہ ضروری ہی ہوں ان کےساتھ بعض زائد باتیں بھی لگالیتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وہ اس میں کوئی بات ایسی نہیںسنیں گے جو لغو ہو کوئی کہے فرض کرو کوئی لغو بات ہوجائے تو اس کا جواب یہ دیا کہ اگر ایسا فرض بھی کرلیا جائے تو وہ بھی اچھی بات ہی ہوگی۔بری بات نہیں ہوگی۔گویا اگر کوئی زائد لفظ بھی ان کی زبان سے نکلے گا تو وہ خیر کا ہی ہوگا شر کانہیں ہوگا۔یا یوں کہوکہ وہاں ضرورت سے زیادہ اگر کوئی شے ہوگی تو سلامتی ہی ہوگی۔اور سلام ہی وہاں کا زائد کلام ہوگا۔استثناء منقطع کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوںگے کہ لغو تو ان کے پاس بھی نہیں پھٹکے گا۔ہاں سلامتی کی باتیں ہر جگہ ہوںگی کیونکہ خدائے سلام کے پاس ہوںگے دارالسلام میں ہوںگے۔اور فرشتے سلام کہہ رہے ہوںگے۔