تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 386

لیکن بِالْغَیْبِ کے ایک یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے ایمان بالغیب کی وجہ سے خدا ئے رحمٰن نے یہ وعدہ کیا ہے۔یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھاتھا۔دلائل سنے تو کہا خداہے اور اس پر ایمان لے آئے۔انہوں نے فرشتے نہیں دیکھے تھے۔دلائل سنے تو کہا فرشتے ہیں اور ان پر ایمان لے آئے۔انہوںنے حیات بعد المو ت کو نہیں دیکھاتھا۔دلائل سنے تو کہا کہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے۔اور ایمان لے آئے پس فرماتا ہے چونکہ ایک غیب انہوں نے دکھایاہے۔یعنی جوچیزیں ان کی نظروں سے پوشیدہ تھیں ان پر وہ ہماری خاطر ایمان لے آئے اس لئے ہم نے بھی ان کو وہ جنتیں دیں جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں ان لوگوں نے اپنی زندگیوں میں غیب کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا ہم نے کہا اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آو اور یہ لوگ ایمان لے آئے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کو انہوں نے نہیں دیکھاتھا۔ہم نے کہا فرشتوں پر ایمان لے آؤ۔او ر یہ لوگ ایمان لے آئے۔حالانکہ فرشتے انہوں نے نہیں دیکھے تھے۔ہم نے کہا جنت پر ایمان لے آؤ اور یہ لوگ ایمان لے آئے۔حالانکہ جنت انہوں نے نہیں دیکھی تھی۔پس چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان باتوں پر یقین کیا جو نظر نہیں آتی تھیں۔خدا تعالیٰ نے بھی ان کو وہ جنتیںدیں جو انہیں نظر نہیں آتی تھیں۔اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِيًّاحقیقت تو یہ ہے کہ اس کاوعدہ نظروں کے سامنے لاکے چھوڑ دیا جاتاہے۔مَاْتِیًّا کے معنے ہوتے ہیں ’’لایا گیا ‘‘اور مراد یہ ہے کہ وہ وعدہ یعنی جنت ایسا ہے کہ اس کے پاس یہ لوگ لائے جائیں گے۔گویا جنت انہیںجبراً دی جائے گی۔یعنی وہ لو گ تو صرف خداکے وصال کے بھوکے ہوں گے۔جنت کی خواہش ان کے دلوں میں نہیں ہوگی مگر چونکہ خدا نے وعدہ کیا تھا۔اس لئے خدا نے کہاکہ تمہیں بہر حال جنت لینی پڑے گی۔پس اس کا وعدہ سامنے لایا گیا اور انہیں جنت میں داخل کردیا گیا۔یہ کلام احسان کے کمال پر دلالت کرتاہے اور بتاتاہے کہ ان میں جنت لینے سے انکار کرنےکی طاقت ہی نہیںہوگی۔لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيْهَا وہ ان (جنتوں) میں کوئی لغو بات نہیں سنیںگے۔بلکہ صرف سلامتی (اور امن کی باتیں سنیں گے )۔اور