تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 35
نے حرام مال نہ کھایا تو ہمیشہ غریب رہو گے اگر تم نے ترقی کرنی ہے تو حرام مال کھائو وَ الْاَوْلَادِ اسی طرح جتھے بنانے کے لئے اور پارٹی بازی کےلئے تم اسے اکسائو گے اور کہو گے کہ جب تک تم فریب نہ کرو گے کامیاب نہیں ہو سکوگے وَعِدْهُمْ اور پھر ہر قسم کی ترقیات کے وعدے دو گے کہ اگر تم جھوٹ اور فریب او رمکر اور دغا بازی سے کام لو گے تو خوب ترقی کرو گے یہ ساری چیزیں ایسی ہیںجو خارجی ہیں اگر انسان کا دل ناپاک تھا تو پھر ان چیزوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی اللہ تعالیٰ فرما دیتا کہ چونکہ آدم نے گناہ کیا تھا اس لئے انسان گنہگار ہو گیا مگر جتنی چیزیں قرآن کریم نے انسان کو بگاڑنے اور خرابی میںمبتلا کرنے والی بیان کی ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جو خارجی ہیں یعنی (۱)گانا بجانا (۲)دھمکیاں مثلاً یہی کہ کہیں انبیاء کے ماننے والے ترقی نہ کر جائیں اس لئے ان پر خوب ظلم کرو (۳) حرص اور لالچ۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کی خرابی کے لئے تمہیں بیرونی ذرائع اختیار کرنے پڑیں گے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اندرونی طور پر وہ محفوظ ہے۔مگر ورثہ کا گنا ہ اندر سے پیدا ہوتا ہے۔باہر سے نہیں آتا جیسے کسی شخص کی والدہ کو سل کا مرض ہو اور وہ بچپن میں اپنی والدہ کا دودھ پیتا رہا ہو جس سے سل کا مادہ اس کے اندر داخل ہو گیا ہو تو ایسے شخص کو جب سل کا مرض ہو گا تو یہ اس کی اندرونی بیماری کہلائے گی لیکن ایک اور انسان ایسا ہوتا ہے جو کسی مسلول کی تیمارداری میں مشغول رہا اور اس کے کپڑوں اور سانس وغیرہ کے ذریعہ سے سل کے کیڑے اور اس کے اندر چلے گئے اور وہ بیمار ہو گیا اب گو سل کا مرض اس کو بھی ہوا ہے مگر اس کی بیماری باہر سے آئی ہے اوراس کی بیماری اندر سے پیدا ہوئی تھی۔اسی طرح اور کئی بیماریاں ہیں جو ماں باپ سے ورثہ میں اولاد کو ملتی ہیں۔مثلاً مرگی کا مرض ہے۔عموماً جن بچوں کے ماں باپ کو مرگی ہوتی ہے انہیں بھی مرگی کے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔یا جنون ہے یہ بھی ورثہ میں چلتا ہے ہم نے بعض دفعہ تین تین پشتوں میں جنون کا مرض منتقل ہوتے دیکھا ہے۔چونکہ انسان زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے اس بارہ میں لمباتجربہ نہیںہو سکتا۔لیکن ممکن ہے اگر کوئی سوسائٹی بن جائے اور وہ اس کی تحقیق کرے تو شاید سات سات آٹھ آٹھ پشتوں تک یہ مرض ظاہر ہوتی چلی جائے۔آتشک کی ایک صورت تو یقیناً ایسی ہے جو سات سات پشتوں تک چلی جاتی ہے بلکہ یورپ کے تازہ لٹریچر میں میںنے پڑھا ہے کہ بعض دفعہ پندرہ پندرہ بیس بیس پشت تک بھی اس مرض کے نشان ملتے ہیں گو اس کی شکل اس شکل سے بدل جاتی ہے جو ابتدائی حالت میں مرض کی ہوتی ہے لیکن بہرحال آئندہ نسل میں یہ مرض چلتی چلی جاتی ہے اب یہ مرض کہیں باہر سے نہیں آتی خود انسان کے اندر اس مرض کا مادہ ہوتا ہے جب نفس پر ضعف اور کمزوری غالب آ تی ہے تو کبھی ناک کی ہڈی