تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 34

کی ضرورت نہیں رہتی۔بلکہ صحیح فطرت کی کوشش اور توبہ اور اس کے نتیجہ میں خدا کا رحم نجات کے لئے کافی ہیں۔چنانچہ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ :۔اول۔شیطان نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ وہ اکثر بنی نوع انسان کو اپنے قابو میں لے آئے گا۔گویا قرآن کریم بنی نوع انسان کی خرابی کے عقیدہ کو شیطان کی طرف منسوب کرتا ہے یہی نہیں کہ اسلام اس کو رد کرتا ہے رد کرنا اور چیز ہوتی ہے اور کسی عقیدہ کو اتنا گندہ قرار دینا کہ اس کو شیطانی فعل کہنا بالکل اور بات ہوتی ہے اس عقیدہ کے متعلق قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ شیطان کا عقیدہ ہے اور شیطان کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ اس نے یہ نہیں کہا کہ سارے انسان خراب ہو جائیں گے بلکہ اس نے بھی یہ کہا کہ اکثر انسانوں کو میں خراب کر لوں گا۔دوسری بات قرآن کریم یہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کہا کہ تم کوشش کرو ہم تمہیں روکتے نہیں۔ہم نے انسان کو بنایا ہی ا سی لئے ہے کہ وہ تمہارا مقابلہ کرے اور اپنے اندر نیکی پیدا کرنے کی کوشش کرے لیکن فرماتا ہے تم صرف بیرونی اثرات سے ہی اس پر اپنا اثر ڈال سکو گے ورنہ فطرتاً ہم نے اسے پاک بنایا ہے۔عیسائیت تو یہ کہتی ہے کہ گناہ انسان کے دل میںگھس گیا اور ورثہ کے طورپر نسل انسانی میں چل پڑا(رومیوں کے نام خط باب ۵ آیت ۱۲ تا ۲۱)۔حالانکہ اگر یہ درست ہے تو شیطان کے پیچھے چلنے کی تحریک خود انسان کے دل سے پیدا ہونی چاہیے۔لیکن اسلام اس کے دل کو پاک قرار دیتا ہے۔بلکہ اس انسان کے دل کو بھی پاک قرار دیتا ہے جو شیطان کے قبضہ میں چلا جاتا ہے فرماتا ہے وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ یعنی جس کو چاہے تو اپنی آواز سے ورغلانے کی کوشش کر اور جس پر چاہے اپنے گھوڑے چڑھا کر لے جا یعنی اپنا لائو لشکر اس پر لے جا اور جس پر چاہے اپنے پیادے لے جا یعنی خواہ جو غالب لوگ ہیں ان کے ذریعہ ان کو ورغلا یا جو ماتحت ہیں ان کے ذریعہ ورغلا اور خواہ تو انہیں مال کی لالچ دے یا اولاد کی ترقی کی لالچ دے بہرحال میرے بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں ہوگا۔اس آیت میں بنی نو ع انسان کو خراب کرنے والی جن تحریکا ت کا ذکر کیا گیا ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو دل سے پیدا ہوتی ہو بلکہ یہ ساری چیزیں ایسی ہیںجو باہر سے آتی ہیں اور انسان کو خراب کر دیتی ہیں۔مثلاً فرمایا کہ تم گانے بجانے سے انسان کو خراب کرو گے۔تم دھمکیوں سے اسے خراب کرو گے یعنی یہ کہ اگر سچ بولا تو پھانسی پر لٹک جائو گے یا تم نے سچ بولا تو قید ہو جائو گے پھر فرمایا وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ تم اس کو لالچیں دو گے کہ اگر تم