تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 377

اختلاف کی الجھنوں میں پڑ جاتے ہیں۔کاش کہ یہ لوگ حقیقت کو اس کی حد تک رکھتے اور مذہب کو کھیل اور تمسخر نہ بنالیتے۔حنوک کا خداکے ساتھ چلنا۔حنوک کے متعلق جو یہ آتا ہے کہ وہ خدکے ساتھ ساتھ چلتاتھا اس کے مشابہ الفاظ حضرت اسماعیل ؑ کے متعلق بھی آتے ہیں لکھاہے کہ ’’خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا ‘‘ ( پیدائش باب ۲۱آیت ۲۰) بلکہ درحقیقت یہ ا لفاظ خداکے ساتھ چلنے سے بھی زیادہ زور دار ہیں۔کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا ہر وقت اس کے ساتھ تھا۔خواہ وہ چلتاتھا یا لیٹتا تھا یا سوتا تھا۔یہی مشابہت ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم میں اسماعیل اور ادریس کا ذکر اکٹھا آتا ہے۔قرآن کریم میں دو جگہ پر ادریس ؑ کا ذکر ہے۔ایک اسی جگہ سورئہ مریم میں اور دوسرا سورئہ انبیاء میں۔سورئہ انبیا ء میں ان الفاظ میں ذکر ہے وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِدْرِيْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ کُلٌّ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ (الانبیاء:۸۶) اور اس سورۃ میں حضرت اسماعیل ؑ کے ذکر کے معاًبعد حضرت ادریس کا ذرکر آتاہے۔چنانچہ یہ آیات یوں ہیں۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا۔وَ كَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا۔وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم :۵۵تا۵۸) ان آیات میں اسماعیل ؑ کو صادق الوعد اور ادریس کو صدیق اسماعیل کو بھی نبی اور ادریس کو بھی نبی قرار دیا گیاہے۔غرض چونکہ الٰہی صحیفوں میں ان دونوں نبیوں کے لئے ’’خدا کے ساتھ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔اس مشابہت کی وجہ سے قرآن کریم میں ان کا اکٹھا ذکر آتاہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اسماعیل ؑ اور ادریس ؑ کا ذکرتو ان کی باہمی مشابہت کی وجہ سے اکٹھا ہوگیا۔یہاں جس مضمون کو بیان کیا جارہا ہے اس کے لحاظ سے ادریس ؑ کی طرف توجہ دلانے میں کیا حکمت ہے ؟ ذکر یہ تھا کہ حضرت زکریا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بیٹا عطافرمائے۔چنانچہ اس دعا کے نتیجہ میں حضرت یحییٰ پیدا ہوئے جن کا مسیح سے پہلے ارہاص کے طور پر آنا ضروری تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مسیح کا ذکر کیا جو اصل مقصود تھا اور بتایا کہ مسیح کے متعلق عیسائی دنیا کے جو عقائد ہیں وہ غلط ہیں مسیح خدایا خدا کا بیٹا نہیں تھا بلکہ موسوی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔پھر بتایا کہ موسوی سلسلہ پیدا ہوا تھا ابراہیم کی دعا سے او رابراہیم کے ساتھ دو وعدے تھے۔ایک وہ جو اسماعیل ؑ اور اس کی نسل کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور دوسرے وہ جو اسحاقؑ اور اس کی نسل کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ