تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 376
ملتاجلتاہے۔احادیث میں ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس کو اپنے معراج میں چوتھے آسمان پر دیکھا (ابن کثیر جلد ۶زیر آیت مریم ۵۶،۵۷)تفاسیر میں اسرائیلی روایتوں کے ذریعہ سے یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ ادریس ؑ اپنے ایک دوست فرشتہ کے ذریعہ سے چوتھے آسمان پر گئے اور وہاں عزرائیل نے ان کی جان نکالی۔لیکن بعض دوسرے مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ ادریس ؑ کی جان نہیں نکالی گئی چنانچہ مجاہد کا قول ہے کہ ادریس ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور وہ مرے نہیں جس طرح کہ عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھالیا گیا۔حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ ان کو چھٹے آسمان پر اٹھالیا گیا حسنؓ کی روایت ہے کہ ان کو جنت کی طرف لےجایا گیا(ابن کثیر جلد ۶ زیر آیت مریم ۵۶و۵۷۔روح المعانی زیر مریم آیت ۵۷) یہ تمام روایات اسرائیلی ہیںیعنی کوئی بھی روایت ایسی نہیںجو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو سوائے معراج کی حدیث کے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انہوں نے چوتھے آسمان پر ادریس ؑ کو دیکھا پس جہاں تک اسلامی روایتی لٹریچر کا سوال ہے بہت سی وہ لغو باتیں جو اسرائیلی لٹریچر میں پائی جاتی ہیں مسلمانوں نے بھی نقل کی ہیں لیکن جہاں تک اسلامی مذہبی لٹریچر کا سوال ہے حدیثوں میں صرف ادریس کے چوتھے آسمان پر ہونے کا ذکر ہے اور قرآن کریم میں صرف یہ ذکر ہے کہ وہ راست باز تھے اور نبی تھے اور ان کو بلند مقام پر خدا تعالیٰ نے اٹھا یا۔اور حقیقتاً حنوک کے اتنے ہی حالات ہیں جن کو سچاکہا جاسکتاہے اور کتاب پیدائش سے بھی اتنا ہی پتہ لگتاہے کہ وہ خدا کے ساتھ چلتاتھا یعنی راستباز تھا اور یہ کہ خدا نے اس کو ایک بلند مقام پر اٹھا لیا یعنی اس کاانجام بخیر ہو ا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مرنے کے بعد بھی اعلیٰ درجات عطافرمائے۔ادریس ؑ کے متعلق یہ جو ذکر آتاہے کہ ا ٓسمان سے ان کے لئے گھوڑا آیا اور اس پر وہ چڑھ کر گئے بعینہ ایسا ہی ذکر مسلمانوں کی معراج کی روایتوں میں بھی ہے مسلمانوں میں بھی یہ روایت پائی جاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سواری آسمان سے لائی گئی جس کا نام براق تھا اور آپ اس پر چڑھ کر آسمانوں پر گئے (بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائک)۔درحقیقت یہ آسمان پر جانا ایک اعلیٰ درجہ کا کشف ہے۔انسان نورانی جسم کے ذریعہ سے آسمانوں پر بھی جاتاہے اور خدا تعالیٰ کو بھی دیکھتاہے لیکن یہ مادی جسم ان کاموں کے قابل نہیں ہے۔نہ یہ آسمانوں پر جاتاہے نہ یہ خدا کو دیکھتاہے۔عجوبہ پرست لوگ ان باتوں کو مادیات کی طرف لے جاتے ہیں اور غیرمعقول باتیں بنانے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا ایمان کمزور ہو جاتاہے اور وہ سائنس اور مذہب کے