تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 378

کے ذکر کے بعد پہلے ابراہیم کا ذکر کیا پھر اسحاق او ریعقوب کا ذکر کیا اور پھر موسیٰ ؑ کا ذکر کیا اور بتایا کہ بنو اسحاق کی ترقی کے متعلق میں نے ابراہیم کے ساتھ جو وعدے کئے تھے وہ پورے ہوگئے اس کے بعد اسماعیل کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ خیال کرلو کہ جس خدا نے اتنی دیر تک بنو اسحق کے ساتھ اپنے وعدے پورے کئے ہیں کیا وہ اسماعیل کے وعدوں کو پورا نہیں کرے گا جو بڑا راست باز اور صادق الوعد تھا اور جس کے کاموں کی وجہ سے خدااس سے بڑا خوش تھا جس شخص نے ہمارے ساتھ اتنی وفاداری کی کیا ہم اس کے ساتھ بے وفائی کریں گے اور اس کے متعلق اپنے وعدوں کو جھوٹا ہونے دیں گے۔چنانچہ اس مناسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون ؑ کے ذکر کے بعد اسماعیل ؑ کا ذکر کیا اور بتایا کہ ابراہیمی وعدوں کی ایک کڑی تو مسیح ؑ پر آکر ختم ہوگئی مگر اس کا ایک دوسرا وعدہ بھی ہے تم اس کو بھی یاد کرو چنانچہ وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے وہ اسماعیل والا وعدہ یاد دلادیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس جگہ نہیں کیا گیا کیونکہ آپ اسی اسماعیلی وعدہ میں آجاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اسماعیل کے ذکرکے بعد ادریس ؑ کا ذکر کیوں کیا گیا اور اس میں کیا حکمت مدنظر ہے ؟ سو یاد رکھناچاہیے کہ مسیح کے متعلق وہ خیال جس پر اس کی خدائی کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔اس کا آسمان پر چلے جانا ہے اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس میں بدقسمتی سے مسلمان بھی عیسائیوں کے ساتھ متفق ہیں اور وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ زندہ ہیں اور آسمان پر بیٹھے ہیں۔عیسائی مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی خدائی کا استدلال نہیں کرتے۔خود عیسائیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ یوسف کا بیٹا تھا اور اس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتے۔وہ کہتے ہیں اگر مریم کا بیٹا ہونے سے اس کی خدائی میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا تویوسف کا بیٹا ہونے سے اس کی خدائی میں کیا نقص واقع ہو سکتا ہے۔پس وہ اس کی خدائی کی بنیا د واقعہ پیدائش پر نہیں بلکہ آسمان پر زندہ چلے جانے کے عقیدہ پر رکھتے ہیں اور یہ ایک ایسا نقطہ نگاہ ہے جس کی ابھی تک تردید نہیں کی گئی تھی۔عیسائیوں کے باقی سب اعتراضات کی تردید کی جاچکی ہے مگر ان کے اس خیال کی تردید ابھی باقی تھی کہ مسیح ؑ آسمان پر زندہ چلاگیا۔چنانچہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ادریس ؑ کا ذکر فرمایا اور اس طرف اشارہ کیا کہ انجیل میں حضرت مسیح ؑ کے آسمان پر جانے کے متعلق جو الفاظ پائے جاتے ہیں ویسے ہی الفاظ بلکہ ان سے بھی زیادہ شاندار الفاظ حضرت ادریس یا حنوک کے متعلق پائے جاتے ہیں۔مسیح ؑ کے متعلق تو صرف اتنا ہی لکھا ہے کہ ’’وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہواکہ ان سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اٹھایا گیا ‘‘ (لوقاباب ۲۴ آیت ۵۱) مگر ادریس کے متعلق لکھا ہے کہ وہ