تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 375
تفصیل کے ساتھ حنوک کے حالات بیان کئے گئے ہیں اور مختلف ٹکڑوں کو ایک ترتیب دے دی گئی ہے۔یہ کتاب اصل میں یونانی میں لکھی گئی تھی اس کے بعد سلافی زبان میں اس کاترجمہ ہوا۔کچھ حصے عبرانی سے ترجمہ کئے ہوئے بھی معلوم ہوتے ہیں۔بائبل کے مشہور عالم چارلس (CHARLES )کاخیال ہے کہ اس کتاب کا اکثر حصہ ایک ہی مصنف کا لکھاہوا ہے۔اور غالباًوہ مصر کا رہنے والا تھا کیونکہ مصری خیالات کا پرتو اس میں نظر آتاہے۔یہ کتاب علماء کے نزدیک پچاس سے ستر سال قبل مسیح لکھی گئی ہے۔اس کتاب میں ایک نئے خیال کابھی اظہا ر کیا گیا ہے۔یعنی دوزخ کو بھی آسمان پر ہی قرار دیا گیا ہے اور لکھا ہے کہ دوزخ تیسرے آسمان پر ہے اور گنہگار فرشتے دوسرے آسمان پر رکھے گئے ہیں۔(The Lost Books of the Bible p۔83,84) حنوک کے متعلق جو واقعات اوپر بیان ہوئے ہیں یہ مختلف انبیاءکے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں۔بلکہ مختلف قوموں کے بزرگوں کے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں مثلاًالیاس کے واقعات سے اسی طرح حرقیول ( HERCULES) گینی میڈ(GENYMEDE ) سیمی رامیس (SEMIRAMIS)زی سو تھروس (XISUTHRUS ) اور بادشاہ اناکوس (ANNACUS )کے واقعات بھی اسی قسم کے بتائے جاتے ہیں (جیوش انسائیکلو پیڈیا جلد ۵ زیر لفظ Enoch)بابل کے بادشاہ ایمی دو ران کی EMMEDURANKI کے حالات بھی جو بابل کے ابتدائی بادشاہوں میں سے ساتواں تھا اسی طرح کے بتائے جاتے ہیں۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ حنوک اصل میں سورج دیوتاکا نام ہے۔آہستہ آہستہ یہ ایک انسان کانام قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ اس کی عمر ۳۶۵سال بتائی گئی ہے۔اور ۳۶۵دن سورج کے سال کے ہوتے ہیں (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Enoch)۔تعجب ہے کہ مسیحی مصنفوں کو ۳۶۵سال کی بنا ء پر حنوک کو سورج دیوتا قرار دینے کاخیال تو آگیا لیکن یہ خیال نہ آیا کہ حنوک کے بیٹوں بیٹیوں اور دادوں پڑدادوں کی عمریں نوسو او ر دس سو اِسی بائبل میں بیان کی گئی ہیں۔پس بجائے اس کے کہ ۳۶۵کی بنا ء پر آدمی کو خیالی قرار دیا جائے دوسری لمبی عمروں کو دیکھتے ہوئے آدمیوں کی بجائے عمروں کو کیوں نہ خیالی قرار دیا جائے اگر ۳۶۵کا ایک عدد حنوک کو خیالی قرار دینے کے لئے کافی ہے تو وہ دس بارہ عمریں جو آٹھ سو ،نوسو اور ہزار سال کی بیان کی گئی ہیں ان کی بنا ء پر ان اعداد کو ہی کیوں نہ خیالی قرار دے دیا جائے ؟ اسلامی لٹریچر میں حنوک کا ذکر ادریس کے نام سے کیا گیا ہے۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے ادریس اور حنوک کے معنے ایک ہی ہیں۔اس لئے مفسرین قرآن کا یہ نظریہ کہ ادریس سے مراد حنوک ہی ہے بالکل درست معلوم ہوتاہے۔اسی طرح ادریس کے حالات کی طرف جو اشارہ قرآن کریم میں پایا جاتاہے وہ بھی اس سے