تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 370

اسی طرح تمام بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے آتاہے کہ اے انسان خدا تجھ سے کیاچاہتاہے یہی کہ ’’اپ<mark>نے</mark> خدا کے ساتھ فروتنی سے چلے‘‘(میکاہ باب۶آیت ۸) اب کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام بنی اسرائیل سے یہ کہا گیا ہے کہ تم اپنا سر نیچا کرکے خداکے ساتھ ٹہلا کرو۔پس خداکے ساتھ چل<mark>نے</mark> کے ہرگز یہ مع<mark>نے</mark> نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی مقام پر ہے جہاں انسان اس کے ساتھ چلتاہے اور نہ اٹھا لی<mark>نے</mark> کے مع<mark>نے</mark> مقام بدل<mark>نے</mark> کے ہیں بلکہ اس کے مع<mark>نے</mark> بھی صرف نیک انجا م پا<mark>نے</mark> اور موت کے بعد خدا تعالیٰ کا مقرب ہو<mark>نے</mark> کے ہیں نئے عہد نامے میں بھی حنوک یا ادریس کا ذکر ہے مگر وہاں اپنی علمیت جتا<mark>نے</mark> کے لئے ک کو ق سے بدل کرلکھا گیاہے۔حالانکہ یہ غلط ہے میں بتاچکا ہوں کہ عربی میں بھی حنک کا لفظ موجود ہے۔پس اس کا تلفظ حنوک ہی ہے۔حنوق نہیں۔بہرحال عبرانیوں باب ۱۱ آیت ۵میں لکھا ہے ’’ایمان کے سبب سے حنوق اٹھایا گیا تاکہ موت کو نہ دیکھے اور نہ ملا اس لئے کہ خدا <mark>نے</mark> اسے اٹھالیا تھا‘‘۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ پولوس یہود کے ا س عام عقیدے سے متاثر تھا کہ حنوک بوجہ نیک ہو<mark>نے</mark> کے موت سے بچ گیا اورآسمان پر اٹھالیا گیا۔حالانکہ یہ عقیدہ مسیحی عقیدہ کے خلاف ہے۔مسیحی عقیدہ کی بنیا د اس امر پر ہے کہ موت گناہ سے ہے اور گناہ ورثہ سے ہے اورآدم کے گناہ کی وجہ سے تمام بنوآدم گنہگارہیں انہیںمسیح <mark>نے</mark> کفارہ کے ذریعہ ورثہ کے گناہ سے نجات دی لیکن پولوس <mark>نے</mark> یہ نہ سوچا کہ حنوک مسیح کے بغیر موت سے نجات پاگیا اور نیک ہوگیا اور مسیحی بلکہ حواری بھی باوجود کفارہ پر ایمان لا<mark>نے</mark> کے موت سے نجات نہ پاسکے۔یادوسرے لفظوں میںنیک نہ ہوسکے۔پس جب مسیحی کفارہ پر ایمان لا<mark>نے</mark> کے باوجود موت سے نہیں بچے جس کے مع<mark>نے</mark> یہ ہیں کہ وہ گناہوں سے پاک نہیں ہوئے اور حنوک مسیح پر ایمان لائے بغیر موت سے بچ گیا۔اور نیک ہوگیاتو اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ کفارہ کی ساری تھیوری ہی باطل ہے۔بائبل کے بعض ماہرین حزقیل باب ۱۴آیت ۱۴اور حزقیل باب ۲۸آیت ۳میں جو دانی ایل کانام آتاہے اسے درحقیقت حنوک یعنی ادریس قرار دیتے ہیں۔حزقیل باب ۱۴آیت ۱۴میں لکھا ہے ’’ہرچند یہ تین شخص نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں موجود ہوتے تو خداوندیہوواہ کہتاہے کہ وے اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جانوں کوبچاتے۔‘‘