تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 370
اسی طرح تمام بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے آتاہے کہ اے انسان خدا تجھ سے کیاچاہتاہے یہی کہ ’’اپنے خدا کے ساتھ فروتنی سے چلے‘‘(میکاہ باب۶آیت ۸) اب کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام بنی اسرائیل سے یہ کہا گیا ہے کہ تم اپنا سر نیچا کرکے خداکے ساتھ ٹہلا کرو۔پس خداکے ساتھ چلنے کے ہرگز یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی مقام پر ہے جہاں انسان اس کے ساتھ چلتاہے اور نہ اٹھا لینے کے معنے مقام بدلنے کے ہیں بلکہ اس کے معنے بھی صرف نیک انجا م پانے اور موت کے بعد خدا تعالیٰ کا مقرب ہونے کے ہیں نئے عہد نامے میں بھی حنوک یا ادریس کا ذکر ہے مگر وہاں اپنی علمیت جتانے کے لئے ک کو ق سے بدل کرلکھا گیاہے۔حالانکہ یہ غلط ہے میں بتاچکا ہوں کہ عربی میں بھی حنک کا لفظ موجود ہے۔پس اس کا تلفظ حنوک ہی ہے۔حنوق نہیں۔بہرحال عبرانیوں باب ۱۱ آیت ۵میں لکھا ہے ’’ایمان کے سبب سے حنوق اٹھایا گیا تاکہ موت کو نہ دیکھے اور نہ ملا اس لئے کہ خدا نے اسے اٹھالیا تھا‘‘۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ پولوس یہود کے ا س عام عقیدے سے متاثر تھا کہ حنوک بوجہ نیک ہونے کے موت سے بچ گیا اورآسمان پر اٹھالیا گیا۔حالانکہ یہ عقیدہ مسیحی عقیدہ کے خلاف ہے۔مسیحی عقیدہ کی بنیا د اس امر پر ہے کہ موت گناہ سے ہے اور گناہ ورثہ سے ہے اورآدم کے گناہ کی وجہ سے تمام بنوآدم گنہگارہیں انہیںمسیح نے کفارہ کے ذریعہ ورثہ کے گناہ سے نجات دی لیکن پولوس نے یہ نہ سوچا کہ حنوک مسیح کے بغیر موت سے نجات پاگیا اور نیک ہوگیا اور مسیحی بلکہ حواری بھی باوجود کفارہ پر ایمان لانے کے موت سے نجات نہ پاسکے۔یادوسرے لفظوں میںنیک نہ ہوسکے۔پس جب مسیحی کفارہ پر ایمان لانے کے باوجود موت سے نہیں بچے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ گناہوں سے پاک نہیں ہوئے اور حنوک مسیح پر ایمان لائے بغیر موت سے بچ گیا۔اور نیک ہوگیاتو اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ کفارہ کی ساری تھیوری ہی باطل ہے۔بائبل کے بعض ماہرین حزقیل باب ۱۴آیت ۱۴اور حزقیل باب ۲۸آیت ۳میں جو دانی ایل کانام آتاہے اسے درحقیقت حنوک یعنی ادریس قرار دیتے ہیں۔حزقیل باب ۱۴آیت ۱۴میں لکھا ہے ’’ہرچند یہ تین شخص نوح اور دانی ایل اور ایوب اس میں موجود ہوتے تو خداوندیہوواہ کہتاہے کہ وے اپنی صداقت سے فقط اپنی ہی جانوں کوبچاتے۔‘‘