تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 369
خدا نے اسے لے لیا۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ حنوک یعنی ادریس موت تک نیکی پر قائم رہا اور ایسی حالت میں اس پر موت آئی مگر الفاظ پرستی کا براہو بعض یہود اور مسلمانوں نے عجوبہ پرستی سے کام لےکر اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ گویاخدا تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھالیا (ایسے مسلمانوںکے نزدیک وہ آسمان پر اٹھائے جانے والو ں کی فہرست میں شامل ہے جن میں الیاس اور مسیح ناصری کا وجود بھی ہے ) بائبل کہتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ساتھ چلتاتھا۔اگر ’’لے لیا‘‘ کے معنے لفظی کئے جائیں تو ’’ساتھ ساتھ چلتاتھا‘‘کے معنے بھی لفظی کرنے ہوںگے۔اور اس صورت میں یا تو ان آیات کا یہ ترجمہ کرنا ہوگا کہ ادریس آسمان میں ساری عمر رہا اوروہاں خدااور وہ ساری عمر چہل قدمی کرتے رہے اور یا یہ معنی کرنے ہوںگے کہ حنوک کے ۶۵سال کی عمر کو پہنچے پر خدا تعالیٰ زمین پر آگیا اور حنوک کے ساتھ رہتارہا بہرحال ۳۶۵سال کی عمر میں آسمان پر اٹھائے جانے کا مسئلہ یہاں سے نہیں نکلتایا یہ ثابت ہوتاہے کہ ۶۵سال کی عمر میں حنوک آسمان پرچلاگیا۔اور اس کی بیوی بھی وہیں چلی گئی اور آسمان پر اس کے کئی بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئیں۔(باب ۵آیت ۲۳)کیونکہ اسی وقت سے اس کے خداکے ساتھ ساتھ چلنے کا بھی ذکر ہے اور اس کے بیٹے بیٹیاں پیدا ہونے کا بھی ذکر ہے اوریاپھریہ ماننا پڑے گا کہ حنوک یا ادریس آسمان پر گیاہی نہیں بلکہ خداآسمان سے زمین پر اترکر اس کے پاس آگیا اور چونکہ خدا کا پھرآسمان پر جانا بائبل سے ثابت نہیں اس لئے یہی کہنا پڑے گا کہ خدا پھر زمین پر ہی رہا۔خلاصہ یہ کہ غیر طبعی اور خلاف سنت الٰہیہ بائبل کی آیتوں کے معنے کرکے ایسا تمسخرانہ مضمون خدا تعالیٰ کی طر ف اور بائبل کی طرف منسوب کردیا گیا ہے جسے کوئی عقل تسلیم نہیں کرسکتی۔سیدھی سادی بات تھی کہ حنوک آخری دم تک خدا تعالیٰ کا مقرب رہااور خدا تعالیٰ کا قرب اسے زندگی میں بھی حاصل رہا اور مرنے کے بعد بھی وہ اس کے مقربوں میں شمار ہو ا۔یہی محاورہ خدا تعالیٰ کے ساتھ چلنے کا اور جگہوں میں بھی بائبل میں آیا ہے لیکن وہاں اس کے معنے آسمان پرجانے کے کوئی نہیں کرتا۔مثلاًنوح علیہ السلام کے بارہ میں آتاہے ’’نوح خداکے ساتھ ساتھ چلتاتھا‘‘ (پیدائش باب ۶آیت ۹) پھر حضرت ابراہیم ؑ کے بارہ میں آتاہے ’’تو میرے حضور میں چل اور کامل ہو ‘‘(پیدائش باب ۱۷آیت ۱)