تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 371
یعنی یہود آج کل اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اگر نوح اور دانی ایل اور ایوب بھی ان میں موجود ہوتے تب بھی خدا ان کی وجہ سے یہود کو اپنے عذاب سے نہ بچاتا وہ صرف اپنی ہی جانوں کو بچاسکتے تھے یہود ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے۔ان الفاظ پر بائبل کے عالم ہیلی وے (HELEVY )نے اور بعد میں شین (CHEYNE ) نے انسائیکلو پیڈیا ببلیکا کی جلد ۲ میں یہ ثابت کیاہے کہ دانی ایل اس جگہ پر غلط لکھ دیا گیاہے اصل میں اس جگہ پر حنوک (یعنی ادریس ) مراد ہے (زیر لفظ Enoch)۔کیونکہ کہا جاتاہے کہ حزقیل کا زمانہ مسیح سے قریباً پونے چھ سوسال سے چھ سو سال قبل تھا اور یہی زمانہ دانی ایل کا بھی ہے۔پس ان علماء کا خیال ہے کہ چونکہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس جگہ پر سابق انبیا ء کا ذکر ہے اس لئے دانی ایل کا نام غلطی سے لکھا گیا ہے درحقیقت اس جگہ پر حنوک کا ذکر ہے ہمیں اس بحث میںپڑنے کی ضرورت نہیں کہ یہاں دانی ایل کانام ہے یا حنوک کاہم اس بحث سے جو فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہودی علماء تسلیم کرتے ہیںبائبل میں غلط باتیں لکھی گئی ہیں۔چنانچہ ایک معین غلطی یہ ہے کہ بائبل میں دانی ایل کانام لکھا ہے۔لیکن یہودی اور عیسائی علماء کہتے ہیں کہ یہاں دانی ایل غلط لکھا گیا ہے اصل میں حنوک کانام چاہیے۔اسی طرح حزقیل کی کتاب کے باب ۲۸کی آیت ۳میں لکھا ہے۔’’دیکھ تو دانی ایل سے زیادہ دانشمند ہے ‘‘ یہاں بھی دانی ایل غلط لکھا گیاہے او راس جگہ بھی درحقیقت حنوک کا لفظ تھا اگر یہ استدلال درست ہے اور بظاہر حالات اس کی تائید میں ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ عہد نامہ قدیم کے انبیا ء کی زبانوں پر حنوک کا نام اپنی دانائی اور اپنے تقویٰ میں بطور ایک ضرب المثل کے جاری رہتاتھا یعنی علاوہ اس نتیجہ کے کہ بائبل میں دانی ایل کا نام آتاہے اور کہا جاتاہے کہ اس سے مراد دانی ایل نہیں بلکہ حنوک ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ بائبل میں دیدہ ودانستہ یاجہالت سے تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ایک یہ نتیجہ بھی نکلتاہے کہ جب بائبل دانی ایل کو دانشمندی میں نمونہ قرار دیتی ہے اور بائبل کے علماء کہتے ہیں کہ اس سے حنوک مراد ہے تو بائبل کے اصل الفاظ یہ ہوئے کہ ’’دیکھ تو حنوک سے زیادہ دانشمند ہے ‘‘ گویا حنوک کانام اپنی دانائی کی وجہ سے قدیم انبیاء کی زبانوں پر بطو ر ایک ضرب المثل کے جاری رہتاتھا۔حنوک کا ذکر یہودی اور مسیحی احادیث ولٹریچر میں۔یہودیوں کی مشہور مذہبی کتاب ٹارگم( TARGUM ) میں جو ان کی احادیث کا مجموعہ ہے جیسے ہمارے ہاں مشکوٰۃ ہے لکھا ہے کہ حنوک خدا کانیک بندہ تھااور اس کومتاترن