تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 33

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ١ٞ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلًا۔قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا۔وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا۔رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا(بنی اسرائیل :۶۳ تا ۶۷) یعنی جب آدم پیدا ہوئے اور ان کی عدم اطاعت اور نافرمانی کی وجہ سے شیطان پر غضب نازل ہوا تو اس نے کہا یہ آدمی جس کو مجھ پر فضیلت بخشی گئی ہے اس کے مقابلہ میں اگر آپ مجھے قیامت تک موقعہ دیں۔تو میں اس کی اولاد پر غالب آ جائوں گا سوائے کچھ لوگوں کے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کے رو سے (یہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ کہہ دیں یہ غلط بات ہے) شیطان بھی کہنے کی طاقت نہیں رکھتاکہ سارے انسان خراب ہیں جو عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور شیطان نے بھی یہ جرأت نہیں کہ سب کو خراب قرار دے بلکہ اس نے تسلیم کیا کہ کچھ انسان پھر بھی بچ جائیں گے لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلًا نہایت واضح آیت ہے اور بتا رہی ہے کہ یہ مسئلہ اتنا غلط ہے کہ شیطان کو بھی یہ جرأت نہیں ہو سکی کہ وہ کہے کہ ہر انسان خراب ہے وہ بھی اقرار کرتا ہے کچھ انسان میرے حملہ سے ضرور بچ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا جائو ان میں سے جو اپنی مرضی سے تمہارے پیچھے چلے گا اس کو سزا دی جائے گی اور تو ان کو ڈرا یا بلا جس کو چاہے اپنی آواز سے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے لے جا اور ان کو اموال اور اولاد میں شریک کر اور انہیں وعدے دے وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا اور شیطان تو ہمیشہ جھوٹے وعدے دیا کرتا ہے۔اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ تو نے تو یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں بندوں کو چھین کر لے جائوں گا مگر میرا دعویٰ یہ ہے کہ جو شخص میری طرف آنا چاہے گا تو اسے کبھی اپنی طرف نہیں لے جا سکے گا۔وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا اور وہ انسان جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے اس سے زیادہ حفاظت میں اور کون ہو سکتا ہے۔رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا اور تمہارا رب وہ ہے جو تمہاری کشتی کو آرام سے سمندر میں لے جاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل کی تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسانی فطرت پاک ہے اور اگر فطرت پاک ہے تو پھر یقیناً اس کو بدی پر غالب آنے کی طاقت بھی حاصل ہے اور اگر انسان بدی پر غالب آ سکتا ہے تو پھر کسی کفارہ