تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 32

قول اور اس کا فعل مخلوق کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن اگر اس کا قول اور فعل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں تو معلوم ہوا کہ انسان قائم رہے گا اور وہ نجات پا سکتا ہے اگر اس نے فنا ہو جانا تھا تو خدا تعالیٰ کا ہمیشہ قائم رہنے والا قول اور فعل باطل ہو جاتا ہے۔غرض صدق کامل اپنے ظلّی صدق کا بھی مطالبہ کرتا ہے کیونکہ صدق دوام پر دلالت کرتا ہے اور دوام صفات بغیر دائمی موہبت صفات کے نہیںہو سکتا۔خود بائبل بھی ہماری اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔بائبل میں آتا ہے خدا نے انسان کو اپنی شکل پر بنایا (پیدائش باب ۱آیت ۲۶ و ۲۷) اب خدا تعالیٰ کی شکل کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ خدا تعالیٰ کے بھی نعوذ باللہ ہماری طرح ناک ، کان ،آنکھیں اور منہ ہیں۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اندر جو صفات پائی جاتی ہیں وہ انسان کے اندر بھی پائی جا سکتی ہیں اور اگر یہ درست ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی شکل پر بنایا گیا اور خدا تعالیٰ صادق ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ انسان اپنے اندر تقویٰ اور راستبازی اور طہارت بھی پیدا کر سکتا ہے ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ جو صادق ہے اس کا ارادہ اور فعل غلط نکلے اور انسان بوجہ گندی سرشت کے شیطان بن گیا۔پس جو مذہب یہ کہتا ہے کہ انسان گندی سرشت کے ساتھ دنیا میں آیا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ارادہ کیا مگر کوئی وجود بھی وہ اپنی شکل پر پیدا نہ کر سکااس نے آدمؑ کو اپنی شکل پر پیدا کیا لیکن وہ گنہگار ہو گیا یعنی یا تو خدا تعالیٰ کی شکل ناقص ہے یا وہ اپنےارادہ میں ناکام رہا اور شیطان خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ پہلے پھل کو بھی لے گیا اور اس کے اگلے پھلوں کو بھی چرا کر لے گیا بلکہ اس کے آخری پھل مسیح کی بھی آزمائش کے لئے آ گیا۔کیا یہ خدا تعالیٰ کی ہتک نہیں اور کیا یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی صداقت پر حرف لانے والا نہیں ؟خدا تو یہ کہتا ہے کہ میں نے انسان کو اپنی شکل پر بنایا مگر ہوتا یہ ہے کہ پہلا انسان بھی شیطان کی شکل پر بن جاتا ہے یعنی اس کی بات ماننے لگ جاتا ہے اور اس کی آئندہ نسل بھی ورثہ کے گناہ میں ہمیشہ کے لئے مبتلا ہو جاتی ہے اور شیطان کے نقش قدم پر چلنے لگ جاتی ہے حتیٰ کہ مسیح جو نجات دہندہ کے طو رپر آیا تھا وہ بھی اتنا کمزورثابت ہوتا ہے کہ شیطان اس کی آزمائش کے لئے آ جاتا ہے۔(متی باب ۴ آیت ۱تا ۱۱) مگر اس کے مقابلہ میں قرآن کریم جو تعلیم دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نجات دینے کےلئے کسی کفارہ کا محتاج نہیں۔اس نے اپنے بندوں کو ہدایت کے لئے ہی بنایا ہے اور ان کی پیدائش میں فطری طور پر اس نے نیکی کا مادہ رکھا ہے۔(۱)اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں شیطان کے اس دعویٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ انسان کو خراب کرے گا فرماتا ہے