تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 364

مفسرین میں سے بعض کا یہ طریق تھا کہ وہ یہودیوں کے پاس جاتے اور ان سے دریافت کرتے کہ فلاں بات کس طرح ہے اور یہودی ان سے مذاق کردیتے تھے۔مثلاًرعد کا لفظ آیا تو وہ کسی یہودی عالم کے پاس چلے گئے اور اس سے پوچھا کہ بتایئے رعد کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جوآسمان پر ہوتاہے۔اس کے اتنے پر ہوتے ہیں وہ اس طرح پر ہلاتاہے تو اس سے سیٹیوں کی آواز پیدا ہوتی ہے سیٹیوں کی آواز سے مورپیدا ہوتے ہیں۔مور کے پروں سے ا ٓگ نکلتی ہے اور آگ سے کڑک اور چمک پیدا ہوجاتی ہے۔اب اس شخص نے تو ایک مذاق کیا تھا مگر انہوں نے اپنی سادگی سے یہ سمجھ لیا کہ اس نے جو کچھ بکواس کیا ہے وہ بالکل درست ہے اور یہی رعد کی تفسیر ہے۔اس چیز نے ان تفاسیر کے علمی پایہ کو بہت گرادیاہے۔بہرحال یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ادریس کا نام اسلام سے پہلے عربوں میں پایا جاتاتھااورحنوک کامفہوم ادریس سے ملتاجلتاہے۔اب سوال یہ ہے کہ جس کا نام حنوک تھا اسے ادریس کیوں کہتے تھے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ بعض لوگوںکے دونام بھی ہوتے ہیں۔ہم نے کئی لوگ ایسے دیکھے ہیں جن کو بعض دفعہ دوسرے ناموں سے بھی بلایا جاتاہے اور جب پوچھا جائے کہ یہ کیا ؟ تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کا فلاں نام بھی ہے۔پس ہوسکتاتھا کہ یہ توجہیہ کرلی جاتی کہ حنوک کا ادریس بھی نام تھا۔مگر اس میں ہمارے لئے دقت یہ ہے کہ یہودی لٹریچر میں کہیں بھی ادریس کانام نہیں آتا۔یہودی نیم مسلمہ عہد نامہ قدیم یعنی ایپوکریفا (The Apocrypha The American Translation p۔xi)میں ایک ایڈراس ESDRAS نام آتاہے مگر اس کی باتیں حنوک پر چسپاں نہیں ہوتیں۔جو باتیں قرآن کریم نے حضرت ادریس کے متعلق بیان کی ہیں وہ حنوک پر ہی چسپاں ہوتی ہیں۔ایڈراس(ESDRAS )پر نہیں۔پس اس مسئلہ کو ہم اس طرح بھی حل نہیں کرسکتے کہ ادریس حنوک کا دوسرا نام تھا۔میرے نزدیک اس کا ایک اور حل ہے اور وہ یہ کہ بعض دفعہ دوسری قوم کے لوگ سمجھانے کے لئے نام کا ترجمہ کردیتے ہیں یہی طریق حنوک کے بارہ میں بھی اختیار کیا گیاہے۔معلوم ہوتاہے کسی یہودی نے اپنے کسی عرب دوست کے سامنے حنوک کانام لیا تو وہ حیران ہوا کہ یہ حنوک کیا چیز ہے۔وہ یہودی کوئی ذہین شخص تھا اور عربی بھی جانتاتھا۔خود مدینہ میں بھی یہود آباد تھے اس نے حنوک کا عربی میں ترجمہ کرکے بتادیا کہ حنوک کو تم ادریس سمجھ لو۔یوں حنوک کانام بھی عربی میں موجود ہے مگر ایک اور شکل میں چنانچہ عربی زبان میں حنک کا لفظ پایا جاتاہے اور اس سے حنوک کا سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔مگر چونکہ یہ لفظ عربی میں اس شکل میں نہیں پایا جاتااس لئے اس کی طرف ذہن نہیں جاتا۔بہرحال اس یہودی عالم نے عربوں کو سمجھانے کے لئے حنوک کا ترجمہ ادریس کردیا۔اب یہ لازمی