تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 363

بات سن کر اپنی کتابوں میں درج کرلیتے تھے۔اور یہودی ان سے کھیل کھیلتے تھے۔وہ بالکل جھوٹی باتیں اپنی طر ف سے بنا کر انہیں بتادیتے تھے۔اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ یہودی بڑے دیانتدار ہیں۔جب انہوں نے اپنے مذہب کے متعلق ایک بات بتائی ہے تو وہ ضرور سچی ہوگی۔چنانچہ جب بھی انہیں بائبل کے متعلق کوئی بات دریافت کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ یہودی علماء کے پاس چلے جاتے۔اور وہ انہیں با لکل من گھڑت قصے اور واقعات بتادیتے۔اور یہ ان قصوں کو اپنی تفسیروں میں درج کرلیتے۔جب یہودیوں کو اس کا علم ہوتاتو وہ اور زیادہ ہنسی اُڑاتے کہ دیکھو ہم نے توان سے مذاق کیا تھا اور انہوں نے اس کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا اب یہ لوگوں کی نگاہ میں خوب رسو ا ہوںگے۔اس سے بے شک ہمارے علماء کی دیانتداری اور نیکی تو ثابت ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ غیر مذاہب کے متعلق ان کا علم بہت محدود اور ناقص تھا۔اگر خدا تعالیٰ کسی وقت مسلمانوں کو توفیق دے اور وہ تفاسیر میں سے تورات اور انجیل کا باب نکال دیں تو گو یہ ایک غیر معمولی با ت ہوگی مگر اس کے نتیجہ میں ہمیں غیر مذاہب والوں کے سامنے وہ ذلت محسوس نہیں ہوگی جو اب محسوس ہوتی ہے اتنی غلط باتیں تورات اور انجیل کے متعلق تفسیروں میں پائی جاتی ہیں کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں۔حدیثوں میں آتاہے کہ حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا کہ فلاں بات کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟انہوں نے کہا میں پھر بتاؤں گا۔چنانچہ وہ شخص چلا گیا اس کے بعد راوی کہتاہے کہ حضرت ابن عباس ؓنے مجھے بلایا اور کہا کہ فلاں یہودی کے پاس جائو اور اس سے پوچھو کہ تمہاری کتابوں میں اس کے متعلق کیا لکھا ہے۔اُس نے ایک نہایت ہی لغو اور فضول اور بیہودہ قصہ بیان کردیا۔دوسرے دن وہ شخص آیا تو راوی کہتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے وہی لغو اور بے ہودہ قصہ بتادیا جو اس یہودی نے بتایا تھا۔اب اس میں حضرت ابن عباس ؓ کا قصورنہیں قصور اس یہودی کا ہی ہے مگر حضرت ابن عباسؓ کا اتنا قصور ضرور ہے کہ انہوں نے مومنانہ طور پر یہ یقین کرلیا کہ وہ خبیث اور بے ایمان یہودی جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ حضرت ابن عباس نے جو کچھ کیا اپنی سادگی اور نیکی کے نتیجہ میں کیا ، پھر بھی ہماری کتابو ں میں ان باتوں کا موجود ہونا ہمارے لئے بڑی شرم کی بات ہے۔آج کل ہم بھی تحقیقات کرتے ہیں۔مگر اس تحقیق میں ہم عربی کی کتابوں سے مدد لیتے ہیں۔عبرانی اور یونانی کتابیں دیکھتے ہیں۔لغت کو مد نظر رکھتے ہیں تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں اورپھر کوئی بات پیش کرتے ہیں ممکن ہے کہ کسی وقت ہماری تحقیق میں بھی کوئی غلطی ثابت ہوجائے۔مگر بہرحال ہماری باتیں سچ کے گرد چکر لگارہی ہیں۔کیونکہ ہماری بنیاد حقیقت لغت اور اسرار لغت اورتاریخی واقعات پر ہے۔اور بعض مفسرین کی بنیاد محض جھوٹے واقعات اور جھوٹے قصوں پر ہے۔اور ان دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے۔ان