تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 31
بھی جھوٹا تھا۔پھر ابراہیم آئے انہوں نے بھی بنی نوع انسان سے یہی کہا کہ جو صداقتیںمیں پیش کرتا ہوں۔ان کو مانو۔گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بھی بائبل میں ادھورا ہے جیسے آدم کا ذکر ادھورا ہے لیکن اس کے بعد موسیٰ ؑکا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور بائبل بتاتی ہے کہ انہوں نے دنیا کے سامنے اپنی تعلیم پیش کی اور ان سے یہی کہا کہ اگر تم اس تعلیم کو نہیں مانو گے تو تم خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ جائو گے اور اگر مانو گے تو نجات پا جائو گے۔انہوں نے یہ کہیں نہیں کہا کہ میں تعلیم تو دیتا ہوں مگر تم اس پر عمل نہیں کر سکتے۔جیسے عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔موسیٰ ؑ نے یہی کہا کہ اگر تم عمل کرو گے تو نجات پا جائو گے۔پس عیسائی عقیدہ اگر سچا ہے اور نجات ناممکن ہے تو موسیٰ ؑ جھوٹا تھا اور اس نے نعوذباللہ بڑا فریب کیا کہ اپنی تعلیم کے متعلق لوگوں سے یہ کہا کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو نجات پا جائو گے اور اگر وہ نبی تھا جیسے بائبل کہتی ہے کہ وہ نبی تھا تو پھر خدا بھی نعوذ باللہ جھوٹا قرار پاتا ہے جس نے اسے اس تعلیم کے ساتھ بھیجا۔اسی طرح موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے باقی تمام انبیاء بھی جھوٹے ماننے پڑتے ہیں کیونکہ ہر ایک نے یہی کہا کہ میری تعلیم پر چلو گے تو نجات پائو گے چنانچہ زبور میں لکھا ہےکہ حضرت دائود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا کہ ’’ تیری شریعت حق ہے‘‘ (زبور باب ۱۱۹ آیت ۱۴۲) اگر شریعت پر عمل نہیںہو سکتا جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت لعنت ہے تو پھر یہی کہنا پڑے گا کہ سچائی پر عمل نہیں ہو سکتا صرف جھوٹ پر عمل ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہنا پڑے گا کہ سچائی سے نجات نہیں مل سکتی صرف جھوٹ سے مل سکتی ہے۔غرض اگر ہم یہ مان لیں کہ انسان شریعت پر عمل کرنے سے نجات نہیں پا سکتا اور نبیوں کی اتباع نہیں کر سکتا تو سارے انبیاء کا سلسلہ جھوٹا ماننا پڑتا ہے لیکن اگر وہ صادق خدا ہے تو لازماً یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نجات ہے کیونکہ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے تمام نبیوں نے یہی کہا کہ اگر تم ہماری باتوں کو مانو گے تو نجات پا جائو گے۔دوسرے عربی زبان میں صدق کے لفظ میں دوام کے معنے بھی پائے جاتے ہیں خالی سچائی کے معنے نہیں (تاج العروس)۔بلکہ وہ چیز جو قائم رہنے والی ہوتی ہے اس پر بھی صدق کا لفظ حاوی ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے صادق ہونے کے یہ معنے بھی ہیں کہ اس کا وجود اور اس کی تعلیم ہمیشہ قائم رہنے والی ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ خدا تعالیٰ کا قول اور خدا تعالیٰ کا فعل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا قول اور اس کا فعل تبھی قائم رہنے والے ہو سکتے ہیں جب بنی نوع انسان بھی قائم رہنے والے ہوں۔اگر مخلوق نے نجات نہیں پانی اور ہلاک ہو جانا ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کے قول نے بھی قائم نہیں رہنا اور اس کے فعل نے بھی قائم نہیں رہنا کیونکہ اس کا