تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 30

اور روح القدس کی مدد کی ضرورت ہے۔یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کو کافی سمجھنے کے تم بھی تو فرشتوں کے قائل ہو۔اسی طرح تم اس دنیا میں ہوائوں کے اور بجلیوں کے اور مادہ کے قائل ہو یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان چیزوں کو ہم تابع حیثیت دیتے ہیں اور تابع حیثیت اور ہوتی ہے اور برابر کی حیثیت اور ہوتی ہے تابع چیز ایسی ہی ہوتی ہے جیسے خادم ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو پس پردہ رکھنے کے لئے ایک قانون بنایا ہوا ہے اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا کوئی نیک نتیجہ نکلنا تھا اور ہمیں اس کے بدلہ میں انعامات ملنے تھے تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پس پردہ رہتی۔کیونکہ جو ظاہر چیزیں ہیں ان پر ایمان لانا کسی ثواب کا موجب نہیں ہوتا۔سورج ہمیں نظر آتا ہے اور ہم اس کا وجود مانتے ہیں مگر اس کے ماننے سے ہمیں انعام نہیں ملتا۔اسی طرح پہاڑ نظر آتے ہیں اور ہم ان کا وجود تسلیم کرتے ہیں مگر ہمیں ان پہاڑوں کو ماننے سے ثواب نہیں ملتا۔چونکہ انسانی پیدائش کی غرض تکمیل روحانیت تھی اور تکمیل روحانیت ثواب کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اور روحانی نظر کی تیزی کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔اس لئے جب کسی چیز کی تیزی اور اس کے ارتقاء کا سوال آئے گا لازماً امتحان اور آزمائش کا بھی سوال آ جائے گااور امتحان اور آزمائشیں زیادہ تر اسی چیز کے متعلق ہوتی ہیں جس کے حصول میں مشکلات حائل ہوں پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود مخفی رہے ورنہ بنی نوع انسان کی ترقی کی سکیم بالکل بے کار چلی جاتی اور جب خدا نے پوشیدہ رہنا تھا تو یہ لازمی بات تھی کہ کچھ روحانی سامان پیدا کئے جاتے اور کچھ جسمانی سامان پیدا کئے جاتے۔روحانی اسباب میں فطرت صحیحہ اور فرشتے شامل ہیں اور جسمانی اسباب میں مادہ اور اس کو حرکت دینے والا قانون شامل ہے پس فرشتوں کا وجود یا مادہ کا وجود کسی اعتراض کا موجب نہیں عیسائی برابر کے خدا پیش کرتے ہیں اور ہم خادم اور تابع چیزیں پیش کرتے ہیں اور خادم اور تابع چیزوں کی ضرورت اس لئے ہے تا اللہ تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء رہے اور خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ایسا پردہ حائل رہے جس کو مجاہد اور محنت سے کام لینے والا انسان ہی پھاڑ سکے، ہر انسان نہیں۔غرض علم مبداء اور علم موجودات کا جو واقف ہو گا لازماً قادر مطلق وجود ہوگا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا صادق ہونا بھی ایک مجاہد کی نجات کا ضامن ہوتا ہے۔اگر انسان بغیر کفارہ کے نجات نہیں پا سکتا تھا تو تمام سابق انبیاء جھوٹے قرار پاتے ہیں اور ان کو بھیجنے والا بھی جھوٹا قرار پاتا ہے۔کیونکہ آدم آیا اور اس نے یہی کہا کہ مجھ پر ایمان لائو۔نوح ؑ آیا اور اس نے یہی کہا کہ مجھ پر ایمان لائو۔آدم کا واقعہ تو تورات میں تفصیل کے ساتھ موجود نہیں۔نوح ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور بائبل بتاتی ہے کہ نوح ؑ نے آ کر یہی کہا کہ مجھ پر ایمان لائو۔اگر انسان بغیر کفارہ کے نجات نہیں پا سکتا تو نوح ؑ جھوٹا تھا اور نوح کو بھیجنے والا