تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 334
صفات اس میں نہیں پائی جاتیں تو اس کی عبادت کرنے کا فائدہ کیا؟ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا اور نہ وہ کسی بات میں کفایت کرتاہے مَااَغْنَی فُلَانٌ شَیئًا کے معنے ہوتے ہیں لَمْ یَنْفَعْ فِیْ مُھَمٍّ وَ لَمْ یَکْفُ مَوْءُوْنَةً کسی کام میں اس نے نفع نہ پہنچایا اور کسی ضرورت کے موقعہ پر اس نے کفایت نہ کی مثلاً اگر کسی پر قرضہ ہو اور دوسرا شخص وہ قرض اتار دے یا کوئی بیمار ہو اور دوسراس کے علاج کے لئے جدوجہد کرے تو وہ اس کا قائم مقام ہو جاتاہے اورا س کے بوجھ کو ہلکاکرنے کا موجب بن جاتاہے مگر فرمایا لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا یہ بت تو وہ ہیں جو تیرے لئے کسی قسم کا بوجھ بٹانے کا موجب نہیں ہوسکتے پھر ان کی عبادت کا فائدہ کیا؟ یہ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا دراصل دلیل کا ایک ٹکڑا ہے جو لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ کے ساتھ مل کر مکمل ہوتی ہے اگر کسی شخص کے کان ہوں او وہ دوسرے کی آواز بھی سن لے کہ دوڑو اور میری مدد کے لئے پہنچو لیکن لولا لنگڑا ہو تو خالی سن لینا دوسرے کو کیا فائدہ پہنچاسکتاہے یا کیسی نے دیکھ تو لیا کہ فلاں شخص کنوئیں میں گرنے لگا ہے لیکن اتنی ہمت نہیں کہ دوڑ کر اسے بچاسکے تو اس کے دیکھنے کا کیا فائدہ۔سننا اور دیکھنا تبھی فائدہ پہنچاسکتاہے جب دوسرے کی مدد کرنے کی طاقت بھی موجود ہو پس لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ والی دلیل لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔاکے ساتھ مل کر مکمل ہوتی ہے کیونکہ کسی کی تکلیف معلوم کرنے کے دوہی ذرائع ہوتے ہیں۔یا تو انسان سن کر پتہ لگاتاہے یا دیکھ کر پتہ لگاتاہے لیکن دیکھنا اور سننا کافی نہیں ہوتاجب تک ایسی طاقت بھی موجود نہ ہو کہ دوسرے کی مدد کا ارادہ انسان پوراکر سکے جب وہ ایسا کرلے تو اس کی دوستی کی زنجیر مکمل ہوجاتی ہے مگر فرمایا یہ بت تو ایسے ہیں کہ نہ یہ تمہاری آوار سنتے ہیں نہ تمہاری تکلیف کو دیکھتے ہیں اور نہ یہ کسی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں پھر ان کی عبادت کرنا کتنی بڑی حماقت کی بات ہے۔یہاں کوئی شخص کہہ سکتاہے کہ وہ کیوں نہیں سنتے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ سنتے ہیں۔کیوں نہیں دیکھتے ہمار ا اعتقاد ہے کہ وہ دیکھتے ہیں اگر یہ بت دیکھتے اور سنتے نہیں تو تمہارے خداکے دیکھنے اور سننے کا کیا ثبوت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے خداکے سننے کا ثبوت یہ ہے کہ ہم اسے پکارتے ہیںتووہ ہمیںجواب دیتاہے۔اور اس کے دیکھنے کا ثبوت یہ ہے کہ ہم مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ ہماری مدد کرتاہے پس اس کا ہماری مدد کرنا اور ضروریات کو پورا کرناثبوت ہے اس کے سمع اور بصر کا لیکن بت چونکہ کوئی ضرورت پوری نہیں کرتے اور وہ کسی تکلیف کے موقعہ پر انسان کی مدد نہیں کرتے اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ سمع اور بصر نہیں رکھتے۔ورنہ یہ کس طرح ہوسکتاتھا کہ ان کے کانوں تک بات پہنچے وہ اپنی آنکھوں سے کوئی نظارہ دیکھیں اور پھر مدد نہ کریں۔حدیثوں میں آتاہے ایک صحابی کہتے ہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ ہوئی کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں