تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 335

بتوں کے اس قدر شائق ہوا کرتے تھے کہ جب ہم گھر سے باہر کسی سفر پر جاتے تو اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی بت بھی رکھ لیتے تھے تاکہ اس کی برکت سے بلائیں اور مصیبتیں ہم سے دور رہیں ایک دفعہ میں سفر پر گیا اور بت اپنے ساتھ لے لیا راستہ میں اتفاقاً مجھے کوئی کام یاد آگیا اور میں نے کہیں جانا چاہا۔مگر اسباب میرے پاس بہت تھا او رکسی دوسری جگہ اسے اٹھاکرلے جانا میرے لئے مشکل تھا میں نے وہیں جنگل میں اسباب رکھا بت کو پاس بٹھایا اور اسے کہا حضور والا آپ ذرا میرے اسباب کا خیال رکھیں میں ایک ضروری کام کے لئے جارہا ہوں چنانچہ میں اطمینان کے ساتھ خوش خوش چلا گیا کہ میں اپنا اسباب اللہ میاں کے سپرد کر آیا ہوں واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گیدڑ ٹانگ اٹھاکر اس بت پر پیشاب کر رہا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اورمیں نے آتے ہی اس بت کو اٹھا کر پرے پھینک دیا او رکہا کمبخت گیدڑ کے پیشاب سے تو تو اپنے آپ کو بچانہیںسکتامیرے اسباب کو کیا بچائے گا اس وقت مجھے خیال آیا کہ مسلمان جو کچھ کہتے ہیں ٹھیک ہے اور میں واپس آکر مسلمان ہوگیا۔اسی طرح ایک اور صحابی کہتے ہیںکہ ہم ایک دفعہ سفر پر گئے تو میںنے خیال کیا کہ پتھر کا بت اٹھانا تو مشکل ہوگا اسباب بھی زیادہ ہے۔آٹے کا بت بناکر ساتھ رکھ لیتے ہیں۔چنانچہ میں نے آٹے کا بت بنایا اور ساتھ رکھ لیا اتفاقاً راستہ میں آٹا ختم ہوگیا اور کھانے کے لئے کوئی چیز نہ رہی جب سخت بھوک لگی تو اسی بت کو کوٹ کرہم نے آٹا گوندھا اور روٹی پکا کر کھالی۔پھر مجھے خیال آیا کہ جس خدا کو میں کھا گیا ہوں اور وہ مجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکا وہ کیسا خداہے اور میں مسلمان ہوگیا یہی حقیقت لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا میں بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کا تم کو فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔کوئی شخص اس پر بھی اعتراض کرسکتاہے کہ لوگوں کی کئی خواہشات اتفاقی طورپر بھی پوری ہوجاتی ہیں پھر یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت کس طرح ہوا۔مثلاً بعض لوگوں کے ہاں بیٹا ہوجائے تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں پیر کی قبر پر سجدہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے یا فلاں جگہ چڑھاوا چڑھایا تھا تو اس کی وجہ سے یہ کام ہوا ہے سواس کے متعلق یادرکھنا چاہیے کہ لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں اور یہ تینوں باتیں آپس میں جوڑ رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کردلیل بنتی ہیں یعنی سمع اور بصر اور اغناء جب یہ تینوں چیزیں ملتی ہیں تب دلیل مکمل ہوتی ہے اور جب یہ زنجیر مکمل ہوجائے تو ا س کے بعد کوئی کام نہ اتفاقی قرار پاسکتاہے اورنہ کسی بت وغیرہ کی طرف منسوب ہو سکتا ہے۔مثلا ً اگر کسی کام کے متعلق دعائیں کی گئی ہیں اور پھر کوئی نتیجہ برآمد ہوا ہے تو ہم یہ نتیجہ نکالیں گے کہ یہ کام خدا نے کیا ہے لیکن اگر دعائیں نہیں کی گئیں اور وہ کوئی غیر معمولی کام بھی نہیں تو وہ خدا تعالیٰ کی