تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 333
مشرک تھا۔غرض قرآنی بیان زیادہ صحیح ہے گو اس کا بائبل کی روایت سے اختلاف ہے۔اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ (اورتو اس وقت کو بھی یاد کر اور لوگوں کے سامنے بیان کر) جب ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ اے میرے وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا۰۰۴۳ باپ تو کیوں ان (چیزوں ) کی پرستش کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ تیری کسی تکلیف کو دور کر نے پر قادر ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے ابراہیم کے ان واقعات کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ تو کیوں اس کی عبادت کرتاہے جو نہ سنتاہے نہ دیکھتاہے اور نہ تیرے لئے کسی چیز کا قا ئم مقام ہو سکتاہے۔اَبَتِ منادیٰ کے طور پر آتاہے اور تا۔ی کے قائم مقام ہوتی ہے گویا اَبَتِ اَبِیْ کا قائمقام ہے عرب لوگ یہ دونوں لفظ استعمال کر لیتے ہیں یعنی اَبِیْ بھی کہہ دیتے ہیں اور اَبَتِ بھی کہہ دیتے ہیں مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ جو نہیں سنتا اور نہیں دیکھتا۔اس سے پتہ لگتاہے کہ الٰہی صفات میں سے اہم صفات اس کا سننا اور دیکھنا ہے۔باقی ساری صفات اس کے تابع ہیں اگر سننے اور دیکھنے کی صفت اس میں نہ پائی جائے توکوئی مشاہدہ والی دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق نہیں رہ جاتی سب سے بڑی دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق یہی ہوتی ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ سے دعاکی کہ خدایاہمارا فلاں کام ہوجائے اور وہ کام ہوگیا جس سے پتہ لگ گیا کہ خداموجود ہے۔اگر اس کا سننا اور دیکھنا ثابت نہ ہو تو پھر بنی نوع انسان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔کسی غیر سے دو ہی ذریعہ سے تعلق ہو سکتاہے یا کانوں کے ذریعہ اور یا پھر آنکھوں کے ذریعہ۔یا تو انسان دوسرے کی آواز سن کر پتہ لگا لیتا ہے کہ اسے کوئی ضرورت در پیش ہے اور وہ اس کی مدد کے لئے پہنچ جاتاہے اور یا پھر آنکھوں سے دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ فلاں شخص مصیبت میں گرفتار ہے اور وہ اس کی مدد کے لئے بیتاب ہو جاتا ہے پس ایک تعلق رکھنے والا خدا تبھی ہو سکتاہے جب اس میں سننے اور دیکھنے کی صفت موجود ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو بتوں کے ناقابل پرستش ہونے کی یہی دلیل دیتے ہیں کہ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ اے میرے باپ تو کیوں اس کی عبادت کرتاہے جو نہ سنتاہے اور نہ دیکھتاہے جب یہ دونوں