تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 321

ترتیب کے ساتھ وہ آئے ہیں پس اگر کسی جگہ قرآن کریم نے اس ترتیب سے اختلاف کیا ہے تو وہ کہتے ہیںکہ اس کی کوئی اور وجہ ہوگی گویا عیسائیوں کے اعتراض کو انہوں نے خود ہی ردکردیا ہے اور کہا ہے کہ جہاں قرآن کریم انبیاء کا تاریخی طور پر ذکر کرتاہے وہاں اسی ترتیب سے ذکر کرتاہے جس ترتیب سے وہ دنیا میں آئے ہیں اور جہاں اس نے آگے پیچھے ذکر کیا ہے وہاں اس کا کوئی اور مقصد ہوگا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوںکی تاریخ کا علم نہیںتھا۔میرے نزدیک حضرت مسیح ؑکے ذکر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسیحیت اپنے آپ کو شاخ قرار دیتی ہے موسویت کی اور موسویت اپنے آپ کو کڑی قراردیتی ہے ابراہیمی سلسلہ کی گویا مسیح ؑ کا تعلق آخر ابراہیم ؑ سے جاکر ثابت ہوتاہے اور یہی بات ہمیں انجیل بتاتی ہے چنانچہ انجیل میں کہیں ابراہیمی تخت کا حضرت مسیح کو وارث بتایاگیا ہے اور کہیں دائو دی تخت کا اس کو وارث بتایا گیاہے(لوقا باب ۱ آیت ۳۲)۔پس مسیح ؑ کی صداقت جب بھی زیر بحث آئے گی ابراہیم کا ذکر ضرور کیا جائے گا کیونکہ جب مسیحیت ابراہیمی سلسلہ کی ایک شاخ ہے اور جڑیہ ثابت کرتی ہو کہ خدا ایک ہے اور شاخ یہ کہتی ہو کہ خدا دو یا تین ہیں تو لازماًہمیں ماننا پڑے گا کہ شاخ جو کچھ کہہ رہی ہے وہ غلط ہے جب بانی سلسلہ موسویہ یا بانی سلسلہ اسرائیلی شرک کا دشمن تھا تو اس کی نسل کا ایک فردشرک کو قائم کرنے والا کس طرح ہو سکتاہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے زکریا کا ذکر کیا جو یحییٰ کے والد تھے پھر یحییٰ ؑکا ذکر کیا جو مسیح ؑ کے لئے ارہاص کے طور پر آئے تھے پھر مسیح کا ذکر کیا اور اس بات کے دلائل دئیے کہ وہ ہمارا موحد بندہ تھا۔اس نے شرک کی تعلیم نہیں دی بلکہ ہمیشہ خدائے واحد کی پرستش کی تاکید کی ہے۔اب فرماتا ہے ہم تمہارے سامنے ایک اور دلیل پیش کرتے ہیں تم کہتے ہو کہ مسیح کے اندر خدائی پائی جاتی تھی اور مسیح دنیا کا آخری نجات دہندہ تھا ، اس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہم تمہیں ابراہیم کی طرف لے چلتے ہیں اور تمہیں بتاتے ہیںکہ وہ ایک خدا مانتاتھا اور شرک کا شدید ترین دشمن تھا اور تم سمجھ سکتے ہو کہ جب جڑ ایک بات کا انکا ر کرتی ہو تو شاخ کس طرح کہہ سکتی ہے کہ میرے اندر وہ بات پائی جاتی ہے پس یہ ایک طبعی ترتیب ہے جس کے ماتحت خد اتعالیٰ نے مسیح کا ذکر کر نے کے بعد ابراہیم کا ذکر کیا اور عیسائی قوم کو اس طرف تو جہ دلائی کہ تم سوچو کہ ابراہیم کیا کہتاہے ابراہیم کاکام بائبل میں دیکھو اس نے جو تعلیم دی ہے اس کو پڑھو اور پھرغور کرو کہ وہ باتیں جو تم کہتے ہوکہ مسیح نے کہی ہیں کیا وہ ابراہیم کی باتوں سے ملتی ہیں یا وہ اس کے خلاف ہیں اگر وہ اس کے خلاف ہیں تو معلوم ہوا کہ وہی باتیں مسیح کے متعلق سچ ہیں جو ہم مسیح کے متعلق کہتے ہیں پس مسیح کے بعد ابراہیم کا ذکر قابل اعتراض نہیں بلکہ طبعی ترتیب یہی تھی کہ ابراہیم کا ذکر کیا جاتا اور یہ ترتیب