تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 320
استعمال ہوں تو ہر بڑے درجہ کے لئے چھوٹادرجہ استعمال ہو سکتا ہے مثلاًہر شہید صالح ہے ،ہر صدیق صالح اور شہید ہے اور ہر نبی صدیق ، شہید اور صالح ہے لیکن جب درجہ کے معنوں میں استعمال ہو تو پھر ہر لفظ اپنے درجہ کے لئے بولا جائے گا دوسرے کے لئے نہیں کیونکہ درجہ کے معنے یہ ہوتے ہیں یہی خصوصیت مسلّمہ اس میں پائی جاتی ہے۔مثلا ً جب کوئی شخص صدیق کے درجہ کو حاصل کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے صدیقیت کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ایسی صورت میںشہید کا لفظ اس کے ساتھ درجہ اور مقام کے بیان کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یا نبی کی اہم حیثیت چونکہ نبوت کی ہوتی ہے اور یہی اس کا مقام ہوتاہے اس لئے جب اس کے مقام کااظہا ر کیاجائے گا تو صرف نبی کا لفظ استعمال کیا جائے گانبی کے ساتھ صدیق کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ نبوت کا درجہ صدیقیت کے مقام پر مشتمل ہوتاہے پس جب کسی بڑے درجہ کے ساتھ چھوٹا درجہ استعمال کیا جائے تو وہ درجہ اور مقام کے بیا ن کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ صفت بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔اس جگہ بھی صدیق کا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ وہ مقام صدیقیت حاصل کرنے والا تھا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ہمارا نبی تھا جس کی صفات میں سے ایک اہم صفت یہ تھی کہ وہ سچ بولنے میں اپنے زمانہ میں بے نظیر تھا پس یہاں صدیق سے مراد درجہ نہیں بلکہ راستبازی کا اعلیٰ نمونہ مراد ہے۔ابراہیم ؑکون شخص تھا اور کیوں یہاں ابراہیم ؑ کا ذکر کیا گیا ؟ یہ ایک سوال ہے جو طبعی طور پر پیدا ہوتاہے۔عجیب بات یہ ہے کہ اس سورۃ میں پہلے زکریا ؑ کا ذکر کیا گیا۔پھر یحییٰ ؑ کا ذکر کیا گیا۔پھر مسیح ؑ کا ذکر کیا گیا اور مسیح ؑ کے بعد اب ابراہیم ؑ کا ذکر شروع کردیا ہے۔ابراہیم ؑ کے بعد اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور موسیٰ ؑ کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اسمٰعیل ؑ کا ذکر کیا گیا ہے عیسائی کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان انبیا ء کا آگے پیچھے ذکر اس لئے کیا ہے کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ پہلے کون نبی ہوا ہے او ربعد میں کون نبی آیا تھا۔چنانچہ اسی لئے انہوں نے مسیح ؑ کے بعد ابراہیم کا ذکر کردیا۔حالانکہ حضرت ابراہیم ؑ بہت پہلے گذرے تھے اور موسیٰ ؑ کے بعد اسمٰعیل ؑ کا ذکر کردیا حالانکہ موسیٰ ؑبعد میں ہوئے ہیں او راسماعیلؑ پہلے گذرچکے تھے(تفسیر القرآن از وہیری)۔پس ان کے نزدیک اس آگے پیچھے ذکر کی وجہ یہ ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ کونسا نبی پہلے گذراہے اور کونسا نبی بعد میں آیا ہے۔حالانکہ جس ترتیب سے انبیاء گذرے ہیں قرآن کریم نے اس ترتیب کے ساتھ ہی ان کو بیان کیا ہے جس سے پتہ لگتاہے کہ قرآن کریم کو نبیوں کی تاریخ کا علم تھا بلکہ خود بعض یوروپین مصنفین نے لکھا ہے کہ یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ انبیاء کس ترتیب سے آئے ہیں غلط ہے۔قرآن کریم نے اس ترتیب سے بھی انبیاء کا ذکر کیا ہے جس