تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 319

عمل بھی اس کی قولی او ر اعتقادی سچائی کی تائید کررہاہو یہ گویا کمال صدیقیت ہوتاہے۔پھر لکھا ہے فَالصِّدِّیْقُوْنَ ھُمْ قَوْمٌ دُوَیْنَ الْاَنْبِیَاءِ فِی الْفَضِیْلَةِ یعنی اللہ تعالیٰ کے انعامات جو انبیاء کو حاصل ہوتے ہیں وہ ان سے نیچے اتر کر صدیقین کو حاصل ہوتے ہیں۔(مفردات) چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی نسبت یہ لفظ بولا ہے۔اس لئے لازماًہمیں اس کے وہی معنے کرنے پڑیں گے جو شان ابراہیمی کے مطابق ہوں اور وہ تیسرے اور چوتھے معنے ہی ہوسکتے ہیں یعنی سچ کی اسے اتنی عادت تھی کہ وہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتاتھا۔سچ اس کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا وہ ایسا راستباز تھا کہ اس کی بات بھی سچی تھی اس کا اعتقاد بھی سچا تھا اور اس کا عمل بھی سچا تھا۔اس جگہ ایک اور سوال بھی پیدا ہوتاہے جس کا حل کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ صدیق نچلا درجہ ہے اور نبوت اس سے بڑا مقام ہے۔جب کسی شخص کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ نبی ہے تو صدیقیت کے معنے اجمالی طور پر اسی میں آجاتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کو صِدِّيْقًا نَّبِيًّا کیوں کہا کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ صدیق ہوکر نبی ہوگیا۔یا وہ صدیق اور نبی ایک وقت میں تھا ؟ اس کے متعلق یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ نہ صرف صدیق کا لفظ بلکہ درحقیقت تمام صفات حسنہ اپنے اندر دو۲ معنے اور دواستعمال رکھتی ہیں ایک استعمال بطور صفت کے ہوتاہے ایک استعمال بطور درجہ کے ہوتاہے۔مثلاًجب ہم کسی شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ کاذب ہے۔تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ جھوٹ اور کذب بیانی کی صفت اس میں پائی جاتی ہے۔لیکن کبھی کاذب کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص نے جھوٹ اور کذب بیانی کی اتنی عادت ڈال لی ہے کہ کاذب اس کا ایک درجہ اور مقام ہوگیا ہے۔غرض جتنے بھی صفاتی الفاظ آتے ہیں وہ سب دو رنگ میں استعمال ہوتے ہیں کبھی وہ صفاتی الفاظ صدور فعل پر دلالت کرتے ہیں اور کبھی حصول مقام پر دلالت کرتے ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ بھی فعل صادر ہوجائے تو وہ لفظ اس شخص کی طرف منسوب کردیا جاتاہے اور کبھی ان معنوں میں استعمال ہوتاہے کہ یہ چیز اسے مقام کے طور پر حاصل ہے یا وہ اس چیز کا اتنا عادی ہوچکا ہے کہ یہ اس کی حیثیت ذاتیہ بن گئی ہے جب اس قسم کے الفاظ صفات کے طور پر استعمال ہوں تو ہر بڑے درجہ کے لئے چھوٹا درجہ استعمال ہو سکتا ہے۔مثلاً ہر نبی مومن بھی ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم میں آتاہے کہ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ(یونس:۱۰۵) مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اور مقام مومن کا تھا۔پس صالح شہید اور صدیق کے الفاظ بطور صفات بھی استعمال ہوتے ہیں اور بطور درجہ بھی جب صفات کے طور پر