تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 318

بہن بھی ہے کیونکہ وہ میر ے با پ کی بیٹی ہے اگرچہ میری ماں کی بیٹی نہیں پھر وہ میری بیوی ہوئی اور جب خدا نے میرے باپ کے گھر سے مجھے آوارہ کیا تو میں نے اس سے کہا کہ مجھ پر یہ تیری مہربانی ہوگی کہ جہاں کہیں ہم جائیں تو میرے حق میں یہی کہنا کہ یہ میرا بھائی ہے۔‘‘ (پیدائش باب ۲۰آیت ۱تا ۱۳) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ بائبل ابراہیم کو جھوٹا قرار دیتی ہے پس چونکہ بائبل میں ابراہیم کو صدیق نہیں بتایا گیا بلکہ اس کی طرف یہ جھوٹ منسوب کیا گیاہے کہ اس نے بادشاہ سے ڈرکر اپنی بیوی کو بہن کہا اور اپنی بیوی سے بھی یہی کہاکہ تو مجھے اپنا بھا ئی کہنا اس لئے فرماتا ہے کہ تو ابراہیم کو اس شکل میں پیش کر جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے نہ کہ اس شکل میں جو بائبل میں بیان کی گئی ہے ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ بیان بالکل غلط ہے اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ابراہیم صدیق بھی تھا اور نبی بھی تھا۔صدیق کے کئی معنے ہوتے ہیں ایک معنے صدیق کے یہ ہیں کہ مَنْ کَثُرَ مِنْہُ الصِّدْقُ جو شخص زیادہ سچ بولے۔کبھی کبھار بے احتیاطی ہوجائے تو اور بات ہے ورنہ اپنی طرف سے وہ سچ بولنے کی کوشش کرے۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ مَنْ لَا یَکْذِبُ قَطُّ جس کے منہ سے کسی صورت میں بھی جھوٹ نہ نکلے گویا وہ بہت زیادہ احتیاط سے اپنی زبان سے الفاظ نکالنے کا عادی ہو اور غلطی سے بھی جھوٹ نہ بولتا ہو۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ مَنْ لَا یَتَاَتّٰی مِنْہُ الْکِذْبُ لِتَصَوُّرِہِ الصِّدْق جو شخص سچ کا اتنا عادی ہو کہ جھوٹ اس کے منہ سے نکل ہی نہ سکے گویا دوسرے معنے تو یہ تھے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا لیکن تیسرے معنے یہ ہیں کہ وہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔سچائی اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ مَنْ صَدَقَ بِقَوْلِہٖ وَ اِعْتَقَادِہٖ وَ حَقَّقَ صِدْقَہٗ بِفِعْلِہٖ جو شخص اپنے قول اور اعتقاد سے دونوں باتوں میں سچائی بیان کرے یعنی اس کی بات بھی سچی ہو او راس کا عقیدہ بھی سچاہو۔مثلاًایک عیسائی دیکھتاہے کہ اس کے بیٹے نے زید کو مارڈالا ہے۔مقدمہ عدالت میں پیش ہوتاہے اور اسے گواہی کے لئے بلایا جاتاہے وہ کہتاہے کہ واقعہ میں میرے بیٹے نے اس شخص کو ماراتھا۔وہ اپنے بیٹے کی جان کی پروا نہیں کرتا اور سچ بولتاہے اب ایسے شخص کو ہم صادق تو کہیں گے لیکن اسے صدیق نہیں کہیں گے۔کیونکہ صدیق میں یہ شرط ہے کہ مَنْ صَدَقَ بِقَوْلِہ وَ اِعْتَقَادِہٖ وہ اپنے قول میں بھی سچاہو اور اپنے اعتقاد میں بھی سچاہو۔اس نے بے شک سچ بولا مگر اعتقادی لحاظ سے وہ سچائی پر قائم نہیں تھاپس وہ صادق تو ہے مگر صدیق نہیں وَحَقَّقَ صِدْقَہُ بِفَضْلِہٖ اور پھر اس کا