تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 316
ہوجائیںگے یعنی نہ صرف عیسائی اس وقت دنیا کے بادشاہ ہوں گے بلکہ لوگ بھی کثرت کے ساتھ عیسائی ہوجائیں گے۔اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ میں بتایا کہ انہیں دنیوی شان و شوکت حاصل ہوگی اور مَنْ عَلَيْهَا میں بتایا کہ تعدادبھی ان کی زیادہ ہوگی چنانچہ اس کے بعد امریکہ دریافت ہوا جو عیسائیوں کے قبضہ میں ہے۔اب اگر امریکہ چھینا جائے تو عیسائیوں سے ہی چھینا جائے گا کیونکہ وہاں ان ہی کا غلبہ ہے اگر فلپائن چھینا جائے تو عیسائیوں سے ہی چھینا جائے گا۔اگر چین کے بہت سے علاقے چھینے جائیں تو عیسائیوں سے ہی چھینے جائیں گے۔کیونکہ وہاں کئی کروڑ عیسائی پائے جاتے ہیں اگر آسٹریلیا چھینا جائے تو عیسائیوں سے ہی چھینا جائے گا اگر روس چھینا جائے تو گو وہ دہریہ ملک ہے بہر حال عیسائیوں سے ہی چھینا جائے گا۔اگر یورپ چھینا جائے تو عیسائیوںسے ہی چھینا جائے گا اگر افریقہ چھینا جائے تو چونکہ اس کا اکثر حصہ عیسائی ہے اس لئے وہ بھی عیسائیوں سے ہی چھینا جائے گا اگر جزائر چھینے جائیں تو عیسائیوں سے ہی چھینے جائیں گے غرض فرمایا اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا ہم وارث ہوجائیں گے زمین کے بھی اور ان کے بھی جو اس زمین پر رہتے ہیں اور ان کو اپنی ماتحتی میں لے آئیں گے۔ماتحتی کے معنے یہ ہیں کہ وہ لوگ خدئے واحد کی بادشاہت کو قبول کرلیں گے پہلی آیت میں بتایا تھا کہ عیسائیت بحیثیت قوم ایمان نہیں لائے گی۔اب بتاتاہے کہ عیسائیت تو قیامت تک باقی رہے گی لیکن جہاں تک اکثریت کا سوال ہے زمین بھی ان سے چھین لی جائے گی۔اور ان کی اکثریت بھی ان سے چھین لی جائے گی اور زمین خدا کی ہوجائے گی یعنی ان لوگوں کی ہوجائے گی جو خدائے واحد کے پرستار ہیں اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی موحدین کے ماتحت آجائیں گے۔گویا اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ احمدیت دنیا کے اکثر افراد کو اپنے اندر جذب کرلے گی اور عیسائیت اس کے مقابلہ میں شکست کھا جائے گی۔وَ اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ اور عیسائی لوگ جو آج خدائے واحد سے منہ پھیرے بیٹھے ہیں اور ایک خدا کے بندے کی پرستش کررہے ہیں مسیح ؑ کے گرد ٹھوکریں کھانے کے بعد آخر خدا کی طرف لوٹائے جائیںگے یعنی ان میں تبلیغ اسلام کی جائے گی اور وہ اسلام کو قبول کرکے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہ کی طرف لوٹیں گے اور شرک کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجائیں گے۔