تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 315
میں جذب ہوسکے۔وہ نشانات دیکھتے ہیں مگر پھر بھی ہدایت سے دور رہتے ہیں۔اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا وَ اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَؒ۰۰۴۱ ہم یقیناً ساری زمین کے بھی وارث ہونگے اور ان لوگوں کے بھی جو اس پر رہتے ہیں اور (آخر کار )سب لوگ ہماری طرف ہی لوٹاکر لائے جائیں گے۔تفسیر۔گذشتہ آیات میں عیسائیوں کا ذکر کرکے بتایا گیا تھا کہ ایک دن ان پر حقیقت کھل جائے گی اور انہیں پتہ لگ جائے گا کہ خدا تعا لیٰ ہمارے ساتھ نہیں بلکہ کسی اور دین کے ساتھ ہے لیکن باوجود اس علم کے وہ سچائی کو قبول کرنے سے اعراض کریں گے اب فرماتا ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَيْهَا وَ اِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ ان لوگوں کو انسانوں اور مالوں پر حکومت حاصل ہوگی لیکن فیصلہ کے دن انسانوں اور مالوں کی بادشاہت مومنوں اور سچائی پر قائم ہونے والوں کو دے دی جائے گی اور ان لوگوں سے چھین لی جائے گی گویا اس میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس طرف بھی کہ عیسائیت کا اس وقت ساری دنیا پر غلبہ ہوگا جس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس وقت عیسائیت کے پاس بے شک حکومت تھی مگر ان کی حکومت بہت ہی محدود تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایک زمانہ میں ساری دنیا کی حکومت ان سے چھین لی جائے گی جس کے معنے یہ ہیں کہ پہلے ساری دنیا کی حکومت ان کے قبضہ میں چلی جائے گی اور پھر وہ حکومت ان سے چھینی جائے گی۔کیونکہ کوئی چیزتبھی چھینی جاسکتی ہے جب وہ دوسرے کے پاس موجود ہو۔پس یہ کہنا کہ دنیا کی حکومت ان سے چھین لی جائے گی اس میں دو پیشگوئیاں پائی جاتی تھیں۔ایک یہ کہ ساری دنیا کی حکومت ان کو ملے گی اور دوسری یہ کہ دنیا کی حکومت ان سے چھین لی جائے گی۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ہم کسی غریب آدمی کے متعلق کہیںکہ ایک سال کے بعد ہم ایک کروڑ روپیہ اس سے چھین لیں گے۔اب اس فقرہ میں یہ بھی مفہوم پایا جاتاہے کہ ایک کروڑ روپیہ اس غریب آدمی کے قبضہ میں آجائے گا اور یہ بھی کہ وہ کروڑ روپیہ اس سے چھین لیا جائے گا۔اسی طرح اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ میں بھی دوپیشگوئیاں کی گئی ہیں ایک یہ کہ عیسائی ایک زمانہ میں ساری دنیا پر چھا جائیں گے اور ساری دنیا کے وارث ہو جائیں گے اور تمام بنی نوع انسان ان کے ماتحت ہوجائیں گے اور پھر یہ کہ ہم ہی اس کے وارث ہوجائیں گے یعنی ہم وہ زمین ان سے چھین لیں گے اور اپنے نیک بندوں کو دے دیں گے۔وَ مَنْ عَلَيْهَا اور پھر زمین پر جتنے لوگ ہوں گے ان کے بھی ہم ہی وارث