تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 308
معنے ہیں کہ ہر بات جس کو وہ چاہے اس پر وہ قادر ہے پس اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا کے معنے یہ ہیں کہ جب وہ کسی ایسی چیز کا فیصلہ کرے جو اس کے احکام میں شامل ہو اور اس کی شان کے مطابق ہو توفَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُوہ صرف کُنْ کہہ دیتا ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے۔غرض امر کے معنے جہاں بات کے ہیں وہاں عربی زبان کے لحاظ سے اس میں سریہ ہے کہ بات وہ ہو جس کا فیصلہ کیا گیا ہو۔جسے پسند کر لیا گیا اور جو اس کی شان کے مطابق ہو۔یہ نہیں کہ ہر لغو بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی جائے اور کہنا شروع کر دیاجائے کہ کیا خدا ایسا نہیںکر سکتا۔جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ چوری کا ارادہ کر لے تو کیا چوری کر لے گا۔حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اپنے آپ کو یہ حکم دیا کرتا ہے کہ جا اور چوری کر۔اور کیا چوری ان چیزوں میں سے ہے جو خدا تعالیٰ کی پسندیدہ ہیں۔پس یہ سوال ہی احمقانہ ہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا ہے کہ بیٹے کی اسے ضرورت ہوتی ہے جو خود کام نہ کر سکے اور جسے اپنی مدد کے لئے دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہو۔جب خدا تعالیٰ کو کسی مددگار کی ضرورت ہی نہیں اور جب وہ سارے کام خود کر لیتا ہے تو اس کے متعلق بیٹے اور روح القدس کا وجود کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ اور اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی عبادت کرو۔مُّسْتَقِيْمٌ۰۰۳۷ یہی سیدھا راستہ ہے تفسیر۔فرماتا ہے یقیناً اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے فَاعْبُدُوْهُ پس تم اسی کی عبادت کرو۔جب خدا باپ کے متعلق تم بھی سمجھتے ہو کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور وہ قادر مطلق ہے تو قادر مطلق کو چھوڑ کر کسی اور کو خدا تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تمہارا بھی رب ہے اور میرا بھی۔وہ تمہارا بھی مالک ہے اور میرا بھی جھگڑا کیسا اور رقابتیں کیسی۔ان جھگڑوں کو چھوڑ واور سمجھ لوکہ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ یہ سیدھا راستہ ہے۔تم ان چیزوں کی طرف چلے گئے ہو۔جن کی عدم ضرورت کو تم بھی تسلیم کرتے ہو۔تم جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ پر موت نہیں آ سکتی کہ اسے بیٹے کی ضرورت ہو۔تم