تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 307
جاتا ہے مگر محاورہ میںبغیر کسی کو مخاطب کرنے کے بھی اس لفظ کا استعمال کر لیا جاتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُنْ اَبَا خَیْثَمَۃ فرمایا۔اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ اے زید تو بکر کی شکل بدل لے بلکہ اس کے صرف اتنے معنے تھے کہ اے کاش یہ آنے والا ابو خیثمہ ہی ہو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ایسا ہو جائے اور وہ چیز کسی شکل میں موجود ہو جاتی ہے ہاںخدا تعالیٰ کے لئے اے کاش کے الفاظ استعمال نہیں ہو سکتے بندے بے شک خواہش کا اظہار کریں گے تو اسی رنگ میں کریں گے کہ اے کاش فلاں بات اس طرح ہو جائے۔لیکن خدا تعالیٰ صر ف اس قدر اظہار کرتا ہے کہ ایسا ہو جائے اور وہ بات وقوع میں آ جاتی ہے یہاں بھی کُنْ فَیَکُوْنُ کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ جب کسی خواہش کا اظہار کرتا ہے یا کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی وہ خواہش اور وہ ارادہ فوراً پورا ہو جاتاہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عربی زبان کی یہ خوبی ہے کہ اس میں الفاظ وہ استعمال کئے جاتے ہیں۔جو خود اپنے مقتضٰی پر دلالت کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ’’جب وہ کسی چیز کو چاہتا ہے ‘‘ یا کہیں گے کہ ’’جب وہ کسی بات کو چاہتا ہے تو ویسی ہی ہو جاتی ہے۔‘‘ حالانکہ ’’چیز ‘‘اور ’’بات‘‘ حقیقت پر دلالت نہیں کرتے۔دو چار دن ہوئے مجھے ایک شامی دوست کا خط آیا جس میں ایک فقرہ اس نے یہ لکھا کہ اِذَا اَرَادَاللّٰہُ بِشَیْ ئٍ۔جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ اپنی طرف سے تو اس نے بڑا عمدہ فقرہ لکھا ہےلیکن عربی زبان کے لحاظ’’ شی ءٌ ‘‘کے لفظ میں بھی ارادہ شامل ہوتا ہے چنانچہ شَیْ ءٌ کے معنے عربی میں یہ ہوتے ہیں کہ وہ چیز جس کو چاہا جائے۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ عَلَی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٍ۔اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے کیا وہ اپنی موت پر بھی قادر ہے حالانکہ شَیْ ءٌ کے معنے بات کے ہیںہی نہیں۔شَیْ ءٌ کے معنے مشیت کے ہیں۔پس اِنَّ اللّٰہَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٍکے یہ معنے ہیں کہ اِنَّ اللہَ قَدِیْرٌ عَلٰی کُلِّ مَشِیَّتِہِ اب کیا یہ خدا کی مشیت ہو گی کہ وہ اپنے آپ کو مار ڈالے اگر یہ خدا کی مشیت نہیں ہو سکتی تو اِنَّ اللّٰہَ عَلَی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٍپر یہ اعتراض بھی نہیں ہو سکتا۔اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا اردو زبان کے لحاظ سے اس کا یہ ترجمہ ہو گا کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرے۔لیکن عربی کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جب وہ کسی ایسی چیز کا ارادہ کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے۔گویا امر کا لفظ مامور پر دلالت کرتا ہے اور شی ءٌ کا لفظ مشیت پر دلالت کرتا ہے۔پس یہ الفاظ ہی ایسے ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا میں امر کے معنے مامور کے ہیںیعنی وہ چیز جس کا حکم دے۔اوراِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٍمیں یہ مضمون نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے بلکہ اس کے یہ