تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 301

یہ’’یہوا‘‘ کا لفظ درحقیقت یَا ھُوَ سے بنایا گیا ہے۔یَاھُوَ کے معنے ہیں اے وہ ہستی جو غائب ہے اور نظر نہیں آتی۔پس یہ بھی ایک صفاتی نام ہے ذاتی نام نہیں۔اور صرف خدا تعالیٰ کے موجود ہونے اور اس کے آنکھوں سے غائب ہونے پر دلالت کرتا ہے یا خدا تعالیٰ کے موجود ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یاء حرف ندا ہے اور اس چیز پر دلالت کرتا ہے جو موجود ہو۔اور ھُوَ یہ بتاتا ہے کہ وہ ہے تو موجود مگر نظروں سے غائب ہے۔پس یہ بھی اسم ذات نہیں اور یہوا کے معنے یہ ہیں کہ اے وہ ہستی جو ہے تو سہی مگر چونکہ آنکھوں سے نظر نہیںآتی اس لئے وہ ھُوَ کہلا سکتی ہے اَنْتَ نہیں کہلا سکتی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عربی اور عبرانی آپس میں کس حد تک ملتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد اس زبان میں بہت کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی لیکن باوجود اس زبان کے بدل جانے کے حضرت مسیح ؑ کے زمانہ میں بھی جو یہود کا آخری زمانہ تھا اور وہ جس کے بعد وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے عبرانی زبان عربی زبان سے اتنی ملتی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ عبرانی عربی کی ہی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح ؑنے جو آخری فقرہ صلیب پر کہا اور جس کے بعد انہیں ہوش نہیں رہا اور جو ایک ہی فقرہ ہے جس کے متعلق تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ یقیناً حضرت مسیح ؑ کا ہی فقرہ ہے وہ یہ تھا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی(متی باب ۲۷ آیت ۴۶،مرقس باب ۵ آیت ۳۴) یہ اٖیلٖی اٖیلٖی درحقیقت عربی زبان کا ایلی ایلی ہے عبرانی میں خدا تعالیٰ کو ایل کہتے ہیں اور عربی میں خدا تعالیٰ کو اٖیلکہتے ہیں۔عبرانی والے کہیں گے جبراایل اور عربی والے کہیں گے کہ جبر اٖیل۔وہ اسرافیل اور عربی والے کہیں گے اسرافِیل پس ایلی ایلی کو اگر ہم عربی لہجہ میں ادا کریں گے تو کہیں گے۔اٖیْلِی اٖیْلِی یعنی اے میرے خدا۔اے میرے خدا آگے ہے۔’’لِمَا ‘‘ یہ وہی عربی لم ہے۔یعنی کس لئے یا کیوں؟ ’’سبقتانی‘‘یہ بھی عربی کا ہی ایک بگڑا ہوا لفظ ہے۔عربی میں کہیں گے سَبَقْتَنِیْ اور عبرانی میں کہیں گے سبقتانی پس اٖیلی اٖیلی لم سبقتنی کے یہ معنے ہوئے کہ اے میرے خدا۔اے میرے خدا تو مجھے کیوں چھوڑ کر آگے چلا گیا سَبَقَ کے معنے ہوتے ہیں آگے نکل گیا۔پس حضرت مسیح ؑ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو مجھے