تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 302
سے کیوں آگے نکل گیا اورمیں پیچھے رہ گیا اگر تو میرے پاس ہوتا تو میری مدد کرتا۔یہ کتنا عربی زبان سے ملتا جلتا فقرہ ہے۔صرف اٖیلی اٖیلی کی جگہ ایلی ایلی اور لم کی جگہ لما اور سبقتنی کی جگہ سبقتانی کر دیا گیا ہے اور یہ ایک ہی فقرہ ہے جو حضرت مسیح کا انجیل میں موجود ہے۔باقی الفاظ کے متعلق کوئی یقینی شہادتیں نہیں لیکن اس فقرہ کے متعلق بائبل کے تمام مفسرین متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ یہ فقرہ یقینی طور پر وہی ہے جو حضرت مسیح ؑنے کہا۔پس عبرانی کوئی الگ زبان نہیں۔عربی زبان کی ہی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ذرا عبرانی کو چست کر دو تو عربی بن جائے گی۔بہرحال ان کے ہاں ایل کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے ’’ایلوہیم‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ہیم جمع کی ضمیر ہے۔عربی میں جمع کے لئے ھُمْ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔عبرانی میں اسے ہیم بنا دیا گیا ہے۔بہرحال ایلوہیم کے لفظی معنے یہ ہیں کہ کئی خدا۔مگر اس لفظ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بڑا خدا یا شاند ار خدا۔پہلے زمانہ میں جب کسی شخص سے مخاطب ہو کر کوئی بات کہی جاتی تھی تو عرب لوگ اسے اَنْتَ کہا کرتے تھے مگر آج کل اَنْتَ کی بجائے اَنْتُمْ کا لفظ استعمال ہونے لگ گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عرب لوگ ہمیشہ اَنْتَ اَنْتَ کہا کرتے تھے(بخاری کتاب الجنائز باب الدخول علی المیت بعد الموت) مگر اب معمولی رئیس یا استاد یا افسر یا ڈپٹی کمشنر یا گورنر سے بھی ملاقات ہو تو اسےاَنْتَ کی بجائے اَنْتُمْ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔اسی طرح عبرانی زبان میں تمدن اور تہذیب کا دور آ جانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے اعزاز کے لئے ایلوہیم کا لفظ استعمال ہوتا تھا جو جمع کا صیغہ ہے۔جس طرح غیر متمدن اقوام میں گفتگو کے وقت تو کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن تمدن آ جائے تو وہ تم کہنے لگ جاتے ہیں پھر اور زیادہ تمدنی شان پیدا ہو جائے تو آپ کہنے لگے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ادب اور اس کے اعزاز کے لئے وہ ایلوہیم کا لفظ استعمال کیا کرتے تھے جس کے معنے الٰہوںاور معبودوں کے ہیں۔یہ اہلوہیم بھی عربی زبان کے لفظ اٰلِھَۃٌ کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔گویا جسے عربی میں اٰلِہَۃٌ کہتے ہیں عبرانی میں اسے ایلوہیم کہتے ہیں۔جسے عربی اِلٰہٌ کہتے ہیں عبرانی میں اسے ایلواہ کہتے ہیںاور جسے عربی میں اٖیل کہتے ہیں عبرانی میں اسے ایل کہتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان میں سے کوئی بھی خدا تعالیٰ کا اسم ذات نہیں۔یہ تمام نام خدا تعالیٰ کے صفاتی اسماء ہیں۔اس تمہید کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ گو بائبل میں خدا تعالیٰ کے لئے اللہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن پھر بھی پرانے عہد نامہ میں خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک تسلیم کیا گیا ہے چنانچہ استثناء باب ۶ آیت ۴ میں لکھا ہے۔