تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 296

سے بعض بیٹا بنا لینے کی تھیوری کے قائل ہیںاور بعض بیٹا ہونے کی تھیوری کے قائل ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ کہیں گے کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے تو لوگ اس بات کو مانیں گے نہیں اور کہیں گے کہ کیا کوئی ایسی عورت تھی جس سے خدا نے تعلق پیدا کیا اور اس سے خدا تعالیٰ کا بیٹا پیدا ہوا۔اس لئے وہ بیٹا ہونے کی بجائے بیٹا بنا لینے کی تھیوری کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی شان اور اس کی عظمت نے پسند کیا کہ اپنے لئے ایک بیٹا تجویز کرے۔سو اس نے مسیح کو اپنا بیٹا بنا لیا پس چونکہ عیسائیوں میں اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے وہ الفاظ استعمال کئے جو دونوں قسم کے لوگوں پر چسپاں ہو جاتے ہیں اور آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا اختیار کرے۔چاہے یہ کہا جائے کہ کوئی اس کا اپنا بیٹا ہے اور چاہے یہ کہا جائے کہ کسی کو اس نے اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔اب یہ صاف بات ہے کہ جب کسی غیر کو اپنا بیٹا بنا لینا بھی اس کی شان کے خلاف ہے تو اس کا کوئی اپنا بیٹا ہونا تو اس کی شان اور عظمت کے بالکل منافی ہو گا۔اس جگہ یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص کسی امر کا مدعی ہوتا ہے ہمیشہ اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرنا اس کے ذمہ ہوتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص کے دو سینگ ہیں اور جواب میں وہ شخص کہے کہ نہیں تم غلط کہتے ہو تو اس پر اگر پہلاآدمی یہ کہے کہ اچھا اگر تمہارے سر پر سینگ نہیں تو ا س کا ثبوت دو۔تو ہر شخص اسے پاگل قرار دے گا اور کہے گا کہ ثبوت پیش کرنا تمہارا کام ہے کیونکہ دعوےٰ تم کر رہے ہو اس کا کام نہیں کہ وہ ثبوت پیش کرے۔حضرت مسیح ؑ کے متعلق چونکہ عیسائی اس بات کے مدعی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں اس لئے ان کے ابن اللہ ہونے کا ثبوت پیش کرنا عیسائیوں کے ذمے ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ یہی ثبوت پیش کرتے ہیں کہ چونکہ انجیل میں حضرت مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اس لئے ہم بھی انہیں خدا تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم انجیل پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا اس میں خدا تعالیٰ کے بیٹے کے وہی معنے پائے جاتے ہیں جو عیسائی پیش کرتے ہیں۔لوقا باب ۲۰ آیت ۳۵۔۳۶ میں لکھا ہے ’’جو لوگ اس جہان کے اور قیامت کے شریک ہونے کے لائق ٹھہرتے نہ بیاہ کرتے ہیں اور نہ بیاہے جاتے۔پھر نہیں مرنے کے کیونکہ وے فرشتوں کی مانند ہیں اور قیامت کے بیٹے ہو کے خدا کے بیٹے ہیں۔‘‘ حضرت مسیح ؑ کہتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیتے ہیں ایسے