تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 266
چپچا س پچا س بانٹ میں بیٹھے۔تب اس نے وہ پانچ روٹیاں اوردو مچھلیاں لے کے آسمان کی طرف دیکھ کے برکت چاہی۔‘‘ یعنی مسیح ؑ کے پاس ایک دفعہ بہت سے لوگ آ گئے آپ نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ان کو کھانا کھلانے کے لئے قطاروں میں بٹھا دو۔پھر مسیح ؑ نے پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں اپنے ہاتھ میں لیں اور آسمان کی طرف دیکھا اور خدا تعالیٰ سے برکت چاہی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ سمجھتا تھا کہ برکت صرف خدا تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔پھر لکھا ہے کہ اس نے ’’ روٹیاں توڑیں اور اپنے شاگردوں کو دیں کہ ان کے آگے رکھیں اور اس نے وے دو مچھلیاں ان سب میں بانٹیں وے سب کھا کے سیر ہوئے۔‘‘ (آیت ۴۱۔۴۲) یعنی پھر برکت آ بھی گئی۔پہلے مسیح نے خدا سے برکت مانگی اور پھر خدا نے اسے برکت دے بھی دی۔پس مرقس تسلیم کرتا ہے کہ خدا مبارِک ہے اور مسیح مبارَک ہے۔خدا برکت دینے والا ہے اور مسیح برکت لینے والا ہے۔پھر یہی مضمون مرقس باب ۸ آیت ۶ تا ۸ میں بھی بیان ہوا ہے۔لکھا ہے ’’ پھر ا س نے بھیڑ کو حکم کیا کہ زمین پر بیٹھ جائیں اور اس نے وہی سات روٹیاں لیں اور شکر کر کے توڑیں (یعنی روٹی ملنے پر اس نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا ) اور اپنے شاگردوں کو دیں کہ ان کے آگے رکھیں اور انہوں نے لوگوں کے آگے رکھ دیں اور ان کے پاس کئی ایک چھوٹی مچھلیاں تھیں سو اس نے برکت مانگ کے حکم کیا کہ انہیں بھی ان کے آگے دھریں چنانچہ انہوں نے کھایا اور سیر ہوئے۔‘‘ اس جگہ پھر برکت مانگنے کا ذکر ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پھر وہ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ بھی گئی۔یہ کہ یہ کیا معجزہ ہے اس جگہ میں ہمیں اس تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہمارا مقصد ان حوالوں سے صرف اس قدر ہے کہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ اور بائبل بھی یہی کہتی ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ سے برکت مانگی اور خدا تعالیٰ نے اسے برکت دی۔پس قرآن کریم کا دعویٰ بالکل درست ہے اگر قرآن نے غلط دعویٰ کیا ہے تو پھر بائبل بھی غلط اور ناقابل اعتبار ہے۔حدیثوں میںبھی اس قسم کے بعض واقعات آتے ہیں۔حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے غلہ خریدا جو چلتا چلا گیا اور ختم ہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔آخر مجھے خیال آیا کہ دیکھیں تو سہی کہ ہے کتنا جب اس کو تولا تو ختم ہو گیا (ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع باب ۳۱)۔بے شک بعض دفعہ انسان اپنی تدبیر اور حکمت عملی سے بھی