تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 267

تھوڑی چیز میں گزارہ کر لیتا ہے لیکن بعض دفعہ انسانی ہاتھ کا کوئی دخل نظر نہیں آتا اور برکت چلتی چلی جاتی ہے یہ ایک ایسا راز ہے جس کو انسان بیان نہیں کر سکتا۔میرے گھر کے بہت سے افراد ہیں چار بیویاں ہیں۔بائیس بچے ہیں اور پھر بچوں کی اولادیں ہیں۔کئی ایسے ہیں جو ابھی کوئی کام نہیں کرتے اور کئی ایسے ہیں جو کام تو کرتے ہیںلیکن بوجہ دینی خدمت کرنے کے جو رقم ان کو ملتی ہے اس میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا اور ہمیشہ ان کے اخراجات کا کچھ حصہ مجھے برداشت کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی میں حساب کرنے لگوں تو دماغ پریشان ہو جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان اخراجات کے پور اہونے کا کوئی راستہ ہی نہیں۔مگر حساب نہ کروں۔تو روپیہ آ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب ضرورتوں کو پورا کر دیتا ہے۔ایک دفعہ میں دریا پر سیر کرنے کے لئے گیا ہوا تھا کہ ایک دن ہم نے صرف ایک چوزہ اور ایک چھوٹی سی مرغابی تیار کروائی یہ کھانا ہمارے لئے کافی تھا۔مگر ہم مغرب کی نماز پڑھ کر بیٹھے تو اردگرد کے علاقہ کے تیس چالیس آدمی آ گئے۔ان میں سے ایک دو تو احمدی تھے اور باقی ان کے غیر احمدی رشتہ دار تھے۔مگر انہوں نے یہ نہ بتایا کہ وہ کیوں آئے ہیں۔میں نے سمجھا کہ وہ تھوڑی د یر ٹھہر کر چلے جائیں گے مگر وہ اتنی دیر بیٹھے کہ عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا۔آخر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے آنے کی کیا غرض ہے؟ کہنے لگے ہم نے ایک نکاح پڑھوانا ہے۔میں نے کہا بہت اچھا چنانچہ میں نے نکاح پڑھ دیا۔مگر وہ نکاح پڑھوانے کےبعد پھر بیٹھ گئے۔غالباً وہ اسی نیت سے آئے تھے کہ ہم کھانا کھا کر ہی جائیں گے۔پہلے تو میرے دل میں بخل پیدا ہوا کہ ہم کچھ دیر اور انتظار کر لیتے ہیں شاید یہ چلے جائیں۔مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ تو جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔تو میں نے امّ طاہر مرحومہ ؓ کو رقعہ لکھا کہ اس طرح مہمان آ گئے ہیں۔چالیس کے قریب یہ ہیں چھ سات گھر کے افراد ہیں اور بیس کے قریب دفتر کے آدمی اور بعض دوسرے لوگ ہیں ان ستر آدمیوں کے کھانے کا کیا انتظام ہوگا۔انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ ہم تو آپ کاہی انتظا رکر رہے تھے۔میںنے باورچی سے اس بارہ میں بات کر لی ہے آپ بے فکر رہیں۔چنانچہ اس کے بعد سب کو کھانے کے لئے بٹھا دیا گیا اور وہ دستر خوان پر سے سیر ہو کر اٹھے۔جب میں باہر سے فارغ ہو کر گھر آیا تو میں نے امّ طاہر سے کہا کہ آج تم کو تو کھانا نہیںملا ہوگا۔انہوں نے کہا ملا کیوں نہیں۔میں نے بھی کھا لیا ہے اور کچھ کھانا بچ بھی گیا ہے اب اس میں کچھ باورچی کا بھی کمال ہوگا مگر کچھ خدا تعالیٰ کا بھی فضل تھا کہ ستر آدمی دو چوزوں پر بیٹھ گئے اور سیر ہو کر اٹھے تو خدا تعالیٰ کی برکتیں کئی رنگوں میں ظاہر ہوتی ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک اس میں اخفاء کا بھی پہلو ہوتا ہے جیسے میں نے اپنے متعلق ہی بتایا ہے کہ حساب کرنے بیٹھوں تو دماغ پریشان ہو جاتا