تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 257

ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے سے کرتا ہے یا ماں اپنے بچے سے کرتی ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کو باپ کہنے لگ گئے۔اسی محاورہ کو حضرت مسیح بھی استعمال کرتے اور خدا تعالیٰ کو اپنا باپ کہتے تھے۔دوسرا مسئلہ اس حوالہ سے یہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح کہتے ہیں ’’ اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے اس لئے کہ میں خدا میں سے نکلا اور آیا ہوں۔‘‘ یعنی جس سے محبت ہوتی ہے اس کی محبت کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے بھی محبت رکھی جائے جن سے محبوب محبت رکھتا ہو۔اس میں مدارج کا سوال نہیں ہوتا کہ فلاں چھوٹا ہے اور فلاں بڑا۔بلکہ انسان صرف یہ دیکھتا ہے کہ خواہ میرا مقام بڑا ہے جب میرا محبوب اور پیارا فلاں سے محبت رکھتا ہے تو میرا بھی فرض ہے کہ میں اس سے محبت کروں۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے متعلق ذکرآتا ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ ان سے ملنے کےلئے آیا وہ کھڑے ہو گئے اور بادشاہ سے ملے اور پھر بیٹھ گئے پھر وزیر ملنے کے لئے آیا تو وہ اسی طرح بیٹھے رہے کھڑے نہیں ہوئے۔اس کے بعد بادشاہ کا پہرےدار آیا تو پھر وہ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہونے کے بعد بیٹھ گئے جب یہ لوگ چلے گئے تو کسی نے کہا آپ نے یہ کیا کیا کہ جب بادشاہ آیا تو آپ اس کے اعزا ز کےلئے کھڑے ہو گئے۔وزیر آیا تو کھڑے نہ ہوئے لیکن پہرےدار آیا تو پھر کھڑے ہو گئے۔ا نہوں نے فرمایا بادشاہ کے آنے پر میں اس لئے کھڑا ہوا تھا کہ بادشاہ کی اطاعت کا حکم ہے۔وزیر کے آنے پر میں اس لئے کھڑا نہیں ہوا کہ وزیر کی اطاعت کا حکم نہیں۔اس کے بعد پہرےدار آیا تو میں پھر کھڑا ہو گیا مگر اس لئے کہ وہ حافظ قرآن تھا۔اب دیکھو پہرےدار ایک ادنیٰ ملازم تھا لیکن چونکہ شاہ ولی اللہ صاحب کے محبوب کا کلام اس نے یاد کیا ہوا تھا اس لئے باوجود چھوٹا ہونے کے آپ اس کے آنے پر کھڑے ہو گئے۔یہی بات حضرت مسیح بیان فرماتے ہیں کہ اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھے بھی عزیز سمجھتے اور میری مخالفت نہ کرتے۔ا سی نقطہ نگاہ کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باوجود اس کے کہ آپ کا رتبہ بہت بڑا تھا فرمایا کہ ؎ ’’خاکم نثار کوچہ آل محمداست ‘‘(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۴۵) ادھر آپ اپنا مقام حضرت امام حسین ؓ سے بڑا بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اپنے علماء سے پوچھو کہ تمہارا مسیح ؑ جس نے آسمان سے آنا ہے وہ امام حسین سے بڑا ہو گا یا چھوٹا۔لیکن دوسری طرف امام حسین ہی نہیں امام حسین کی اولاد در اولاد پر اپنی جان قربان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے قابل احترام وجود ہیں۔کیونکہ وہ