تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 258

بہرحال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہیں۔تو رتبہ اور مقام اور چیز ہے اور محبت کا تعلق اور چیز ہے۔پس حضرت مسیح کہتے ہیں کہ اگر واقعہ میں تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوتا اور تم اس کے بیٹے ہوتے تو تم مجھ سے محبت کیوں نہ کرتے۔تمہارا مجھے نہ چاہنا بتاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے بیٹے نہیں ’’ اس لئے کہ میں خدا میں سے نکلا اور آ یا ہوں ‘‘ یعنی اپنے محبوب کی طرف سے آنے والی ہر چیز پیاری ہوتی ہے۔پس تم جو مجھ سے محبت نہیں رکھتے تو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں اپنے محبوب کی بھی کوئی قدر نہیں۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کھڑے تھے کہ بادل آیا اور بارش ہوئی جب اس کے قطرات گرے تو آپ نے اپنی زبان باہر نکالی اور بارش کا قطرہ اس پر لے لیا۔پھر آپ نے سمجھا کہ ممکن ہے میرے اردگرد کے لوگ یہ سمجھیں کہ میں نے کیا خلاف مرتبت بات کی ہے اس لئے آپ نے فرمایا یہ میرے رب کی تازہ نعمت آئی ہے یہی مضمون حضرت مسیح بیان فرماتے ہیں کہ ’’ میں خدا میں سے نکلا اور آیا ہوں ‘‘ یعنی میں خدا تعالیٰ کا ایک تازہ انعام ہوں۔اگر تم خدا تعالیٰ سے سچی محبت رکھنے والے ہوتے تو تم میری قدر کیوں نہ کرتے۔’’ کیونکہ میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اسی نے مجھے بھیجا۔‘‘ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مسیح نے جب اپنے آپ کو بیٹا کہا تو صرف رسول ہونے کی حیثیت سے ہی کہا ہے۔اسی طرح لوقا باب ۴ آیت ۱۶ تا ۲۲ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ ایک دفعہ ناصرہ میں سبت کے دن عبادت خانہ میں گئے تو وہاں ان کو یسعیاہ نبی کی کتاب دی گئی کہ اس میں سے وعظ کریں۔انہوں نے کتاب کھول کر وہ مقام نکالا جہاں لکھا تھا۔’’ خداوند کا روح مجھ پر ہے اس لئے کہ اس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے لئے مسح کیا۔اس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سنائوں۔کچلے ہوئوں کو آزاد کروں اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں۔‘‘ اور پھر لوگوں کو وعظ و نصیحت کی۔جب درس دے چکے تو لکھا ہے۔’’ جتنے عبادت خانہ میں تھے سب کی آنکھیں اس پر لگی تھیں۔وہ ان سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا ہے۔‘‘ یعنی یسعیاہ نبی کی کتاب کا جو نوشتہ تھا وہ آج پورا ہو گیا ہے۔اس نوشتہ کا یسعیاہ باب ۶۱ آیت ۱ تا ۳ میں تفصیلی طور پر ذکر آتا ہے حضرت یسعیاہ کہتے ہیں۔