تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 256
بھیجا۔‘‘ (انجیل یوحنا باب ۸ آیت ۴۱۔۴۲) یہاں بھی ’’اسی نے مجھے بھیجا‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو حضرت مسیح ؑ کی نبوت اور رسالت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اس حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ؑ کا خدا تعالیٰ کو اپنا باپ کہنا ان کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ یہود بھی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بیٹے کہا کرتے تھے۔چنانچہ فریسیوں نے ان سے کہا ’’ ہمارا ایک باپ ہے یعنی خدا۔‘‘ معلوم ہوا کہ بیٹا ہونے میں مسیح کی خصوصیت نہیں یہ یہود میں عام محاورہ تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کو اپنا باپ کہا کرتے تھے اور اس قسم کے محاورہ کا ان میں رائج ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں محبت الٰہی پائی جاتی ہو اور جو صرف مادی چیزوں کے پیچھے جانے والے نہ ہوں بلکہ روحانیت کی سچی تڑپ اور خدا تعالیٰ کے وصال کی حقیقی خواہش رکھتے ہوں وہ جذبات محبت کے غلبہ کے وقت خدا تعالیٰ کو ماں اور باپ کی شکل میں ہی دیکھتے ہیں اور رئویا اور کشوف میں بھی خدا تعالیٰ اپنے منتخب کردہ بندوںکو بعض دفعہ اپنا وجود ماں یا باپ کی شکل میں ہی دکھاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں نے اپنے باپ کی شکل میں خدا تعالیٰ کو دیکھا (الحکم ۱۰؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۷)اور میں نے ایک دفعہ خدا تعالیٰ کو حضرت اماں جانؓ کی شکل میں دیکھا تھا تو جہاں اخلاص اور محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں وہاں بندے اپنی محبت کے جوش کے وقت خدا تعالیٰ کو ماں یا باپ کی حیثیت میں ہی دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ بھی رئویا و کشوف کے ذریعہ جب اپنی محبت ان پر ظاہر کرتا ہے تو بالعموم باپ یا ماں کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔آگے یہ ایک باریک روحانی نکتہ ہے کہ وہ کن حالات میں اپنے آپ کو باپ کی شکل میں دکھاتا ہے اور کن حالات میں اپنے آپ کو ماں کی شکل میں دکھاتا ہے بہرحال یہ دونوں وجود محبت کا ایک نشان سمجھے جاتے ہیں مگر دونوں کی محبت میں فرق ہوتا ہے۔ماں کی محبت اور رنگ کی ہوتی ہے اور باپ کی محبت اور رنگ کی ہوتی ہے ماں کی ذمہ داریاں اور قسم کی ہوتی ہیں اور باپ کی ذمہ داریاں اور قسم کی ہوتی ہیں۔جب خدا تعالیٰ ماں کی محبت اور ماں کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے تو وہ ماں کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اور جب وہ باپ کی محبت اور باپ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے تو باپ کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔چونکہ نبیوں کے پیرو اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ان کی زبان سے یہ باتیں سنتے رہتے ہیں کہ ہمارا خدا ہم سے ماں او رباپ کی طرح محبت کرتا ہے اس لئے وہ بھی ان کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی رنگ میں جب یہود میں خدا تعالیٰ کے انبیاء آئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کا بار بار ذکر کیا اور بتایا کہ ہم سے خدا نے یوں محبت کی