تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 255
طرح باپ نے مجھے سکھایا ہے اور جس طرح اس نے مجھے تعلیم دی ہے اسی طرح میں لوگوں سے کہتا ہوں مجھے یہ اختیار حاصل نہیں کہ میں اپنی طرف سے انہیں کچھ کہوں۔اسی طرح حضرت مسیح کہتے ہیں۔’’ یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘ (انجیل متی باب ۵ آیت ۱۷۔۱۸) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح یہود کی طرف اس لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ وہ تورات کو رائج کریں پس قرآن کریم نے جو ان کے متعلق اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ کے الفاظ استعمال کئے ہیں وہ بالکل صحیح اور درست ہیں۔اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ کے الفاظ اس لحاظ سے بھی استعمال ہوئے ہیں کہ ایک پہلے نبی کی کتاب پر عمل کرنے اور دوسروں سے عمل کروانے کا انہیں حکم تھا اور اس لحاظ سے بھی کہ پہلی کتاب کی تفسیر انہیں الہاماً سکھائی جاتی تھی اور یہ دونوں باتیں انجیل سے ثابت ہیں حضرت مسیح نے یہ بھی کہا کہ میں تورات کو رائج کرنے اور اس کے احکام پر عمل کروانے کےلئے آیا ہوں اور یہ بھی کہا کہ میں اپنی طرف سے کوئی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہوں جو خدا مجھے سکھاتا ہے۔تیسری بات قرآن کریم نے یہ بتائی ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنی قوم کے سامنے نبوت کا دعویٰ پیش کیا اور کہا کہ وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا خدا تعالیٰ نے مجھے نبی بنایا ہے اس کی صداقت بھی انجیل سے ثابت ہے۔یوحنا میں لکھا ہے حضرت مسیح نے کہا۔’’ جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے (نبی اسی کو کہتے ہیں جسے لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جائے) اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ میںہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اسے پسند آتے ہیں۔‘‘ (انجیل یوحنا باب ۸ آیت ۲۹) یہ الفاظ ایک رنگ میں وَ جَعَلَنِيْ نَبِيًّا کی ہی تفسیر ہیں۔اسی طرح لکھا ہے فریسیوں نے حضرت مسیح سے کہا ’’ ہمارا ایک باپ ہے یعنی خدا۔یسوع نے ان سے کہا اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے۔اس لئے کہ میں خدا میں سے نکلا اور آیا ہوں۔کیونکہ میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اسی نے مجھے