تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 254
لوگ کہاں چلے گئے اس نے کہا کہ بھاگ گئے۔حضرت مسیح ؑ نے کہا جامیں بھی تجھ پر کوئی حکم نہیں لگاتا۔اس بارہ میں انجیل کے اصل الفاظ یہ ہیں۔لکھا ہے۔’’فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا اے استاد یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے توریت میں موسیٰ ؑ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کر یں پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے۔انہوں نے اسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں۔مگر یسوع جھک کر انگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔جب وہ اس سے سوال کرتے ہی رہے تو اس نے سیدھے ہو کر ان سے کہا کہ جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے اور پھر جھک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔وہ یہ سن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہیں بیچ میں رہ گئی۔یسوع نے سیدھے ہو کر اس سے کہا۔اے عورت یہ لوگ کہاں گئے۔کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا؟ اس نے کہا اے خداوند کسی نے نہیں یسوع نےکہا میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔جا پھر گناہ نہ کرنا۔‘‘ (انجیل یوحنا باب ۸ آیت ۳ تا ۱۱) اب دیکھو فقیہی اور فریسی کہتے ہیں کہ موسیٰ کی شریعت میں ایسی عورتوں کو سنگسار کرنے کا حکم ہے۔حضرت مسیح کہتے ہیں کہ تم میں سے وہ شخص پہلے پتھر چلا ئے جو بے گناہ ہو۔مگر جب سب لوگ ایک ایک کرکے غائب ہو گئے تو مسیح نے اس عورت سے کہا کہ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا جس کے معنے یہ ہیں کہ میں بھی بے گناہ نہیں ہوں۔یہ حوالہ بھی بتاتا ہے کہ مسیح اپنے گنہگار ہونے کا اقرار کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ وہ بندہ ہونے کا اقرار کرتا ہے۔دوسری بات قرآن کریم نے حضرت مسیح کی طرف یہ منسوب کی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ اس نے مجھے کتاب دی ہے۔اس کے لئے دیکھو یوحنا باب ۸ آیت ۲۸ جہاں حضرت مسیح کہتے ہیں کہ میں ’’ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا۔بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔‘‘ یہ حوالہ اس امر پر صراحتاً دلالت کرتا ہے کہ حضرت مسیح لوگوں کو جو کچھ تعلیم دیتے تھے وہ اپنی طرف سے نہیں دیتے تھے بلکہ وہی کچھ بتاتے تھے جو خدا انہیں بتاتا تھا۔وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتابلکہ جس