تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 253
ان آیا ت میں حضرت مسیح دو دعوے کرتے ہیں ایک یہ کہ نیک صرف خداہے۔دوسرا یہ کہ میں نیک نہیں ہوں۔اب اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میں خدا نہیں تم منطقی صغریٰ کبریٰ بنالو۔اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔ایک طرف یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیک صرف خدا ہے اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ میں نیک نہیں۔اِن دو دعووں کا سوائے اس کے اور کو ئی مفہوم نہیں کہ میں خدا نہیں گو یا حضرت مسیح انسان ہونے کا اس جگہ اقرار کرتے ہیں۔یہاں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بعض مسلمان بغیر حقیقت پر غور کرنےکے اس جگہ عیسائیوںسے بھی زیادہ جوش میں آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا مسیح ؑ نیک نہیں تھا اگر کسی احمدی سے یہ سوال کیا جا ئے تو وہ کہے گا کہ تم عیسائیوں سے پوچھوان کی کتاب میںیہ لکھا ہے۔پس اس کے جواب کی اصل ذمہ واری ان پر ہے ہم پر نہیںلیکن اگر ہمیں ہی جواب دینا پڑے تو ہم یہ جواب دیں گے کہ عبداللہ کی نیکی کسبی ہوتی ہے اور یہاں حضرت مسیح کی مراد اس نیکی سے ہے جو ذاتی ہوتی ہے انسان کی نیکی کسبی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نیکی ذاتی ہوتی ہے۔اسی لئے خدا قدوس کہلاتا ہے لیکن انسان قدوس نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ اپنی ذات میں بے عیب ہے اور انسان بے عیب کوشش سے بنتا ہے۔خدا تعالیٰ پر کوئی وقت ایسا نہیں آیا جب وہ ناقص تھا اور پھر اس نے کامل بننے کی کوشش کی۔لیکن انسان پہلے ناقص ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔پہلے وہ بچہ ہوتا ہے پھر اسے عقل آتی ہے تو وہ نماز شروع کرتا ہے اس کے بعد ایک دن کی نماز اسے کچھ اور آگے لے جاتی ہے۔دو دن کی نماز اسے اور آگے لے جاتی ہے۔تین دن کی نماز اسے اور آگے لے جاتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ جیسے آج سے اربوں ارب سال پہلے تھا اسی طرح آج بھی ہے اس کی قدوسیت نہ پہلے کم تھی اور نہ آج زیادہ ہے لیکن انسان کی نیکی کسی وقت کم ہوتی ہے اور کسی وقت زیادہ ہوتی ہے چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نیکی ادنیٰ ہوتی ہے جب وہ صداقتوں کو سمجھنے لگ جاتا ہے تو اس کی نیکی کا معیار اور زیادہ ترقی کر جاتا ہے اور جب اس پر شریعت یا الہام نازل ہونا شروع ہوتا ہے تو اس کی روحانیت اور زیادہ ترقی کر جاتی ہےپس جب مسیح نے کہا کہ میں نیک نہیں تو اس کے صرف اتنے معنے تھے کہ میرے اندر ذاتی نیکی نہیں کسبی نیکی ہے۔اسی طرح یوحنا میں لکھا ہے کہ ایک عورت کو لوگ پکڑ کر آپ کے پاس لائے اور کہا کہ یہ عورت زنا کی حالت میں پکڑی گئی ہے موسیٰ ؑ کی شریعت کے مطابق زانیہ کی سزا سنگساری ہوتی ہے مگر ہم اسے آپ کے پاس لائے ہیں آپ اس کے متعلق کیا فتویٰ دیتے ہیں مسیح ؑ نے جواب دیا کہ جو شخص تم میں بے گناہ ہے وہ آگے آئے اور سب سے پہلے اس کو پتھر مارے۔وہ لوگ یہ سن کر بھاگ گئے۔حضرت مسیح نے اس عورت سے پوچھا کہ تجھ پر حکم لگانے والے