تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 252

مس شیطان سے آلودہ قرار دیتے ہیں صرف اُس نا م نہاد خدا کے بیٹے کو جس کے متعلق اُس کی اُمت بھی کہتی ہے کہ چالیس دن تک شیطان کے ساتھ پھرتا رہا مس شیطان سے پاک قرار دیتی ہے۔پھر لطیفہ یہ ہے کہ مسلمان مولوی تو یہ کہتے ہیں کہ پیدائش کے وقت جب وہ بچہ تھا اس وقت بھی اُسے شیطان نے نہیں چھوا۔لیکن انجیل کہتی ہے کہ جب وہ بالغ اور عاقل تھا تب بھی وہ شیطان کے ساتھ ساتھ پھرتا تھا صرف ایک دو منٹ کے لئے نہیں۔بلکہ چالیس دن تک پھرتا رہا۔پھر یوحنا باب۴ آیت ۲۲ میں لکھا ہے ’’تم جسے نہیں جانتے اس کی پرستش کرتے ہو ہم جسے جانتے ہیں اس کی پرستش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔‘‘ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح اپنے آپ کو خدا کا ایک بندہ سمجھتے تھے کیونکہ فرماتے ہیں کہ میں اور باقی یہودی اُس خدا کی پرستش کرتے ہیں جس کو ہم جانتے ہیں اور تم اس کی پرستش کرتے ہو جسے تم نہیں جانتے۔پھر خدائی کی ایک بڑی علامت علم غیب ہوتا ہے اگر کوئی خدائی کا دعویدار ہوتا تو ضروری ہے کہ علم غیب بھی اسے حاصل ہومگر مسیح کہتا ہے کہ ’’اُس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیںجانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر باپ‘‘۔(مرقس باب ۱۳ آیت۳۲) اُس دن یا اُس گھڑی میں اختلاف ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔بعض لوگ اس سے قیامت مراد لیتے ہیں اور بعض اس مسیح کی آمد ثانی مراد لیتے ہیں بہر حال قیامت مراد ہویا مسیح کی آمد ثانی حضرت مسیح ؑ کہتے ہیں کہ اُس دن یا اس گھڑی کونہ میں جانتا ہوں نہ آسمان کے فرشتے جانتے ہیں صرف خدا جانتا ہے کہ وہ کب آئے گی۔گویا علم غیب کے متعلق حضرت مسیح ؑ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے مجھے حاصل نہیں۔اگر وہ خدا ہوتا تو اُسے بھی یہ علم غیب حاصل ہوتا۔اسی طرح مرقس باب۱۰ آیت ۱۷و۱۸ میں لکھا ہے ’’اور جب وہ باہر نکل کرراہ میں جا رہا تھا تو ایک شخص دوڑ تا ہوا اُس کے پاس آیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اُس سے پوچھنے لگا کہ اے نیک اُستا د میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوںیسوع نے اُس سے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔‘‘