تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 21

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا( اور)بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں ) كٓهٰيٰعٓصٓ۫ۚ۰۰۲ كٓهٰيٰعٓصٓ کٓھٰیٰعٓصٓ کی تشریح کٓھٰیٰعٓصٓ میں نے متعدد بار بیان کیا ہے کہ حروف مقطعات کے متعلق مختلف ائمہ اسلام میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اگر کوئی تشریح ایسی ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہو تو بہرحال وہ دوسرے لوگوں کے خیالات سے مقدم سمجھی جائے گی۔اس نقطہ نگاہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مقطعات کے متعلق دو ہی معنے منسوب ہیں۔بعض روایتوں میں تو یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہودیوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ حروف اعداد کے حروف ہیں۔مثلا ً الم ہے اس میں الف کا ایک لام کے تیس اور م کے چالیس اعداد ہیں۔گویا الٓمٓ کے اکہتر ۷۱ عدد ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معنوں کو رد نہیں کیا(طبری زیر آیت الم)۔پس بوجہ ان معنوں کو رد نہ کرنے کے وہ معنے بھی ہمارے نزدیک قابل قبول ہوںگے۔کیونکہ اگر وہ غلط ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو رد فرما دیتے۔اور قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معنے بھی اپنے اندر بعض پیشگوئیاں رکھتے ہیں جو وقت پر پوری ہوئیں۔اس کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے معنے بھی منسوب ہیں جن میںصفات الہٰیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مثلاً یہی کٓھٰیٰعٓصٓ ہے حضرت ام ہانی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن تھیں وہ کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے معنے کَافٍ۔ھَادٍ۔عَالِمٌ اَوْ عَلِیْمٌ اور صَادِقٌ کے ہیں یعنی ک قائم مقام صفت کافی کا ہے۔ھاد قائم مقام صفت ہادی کی ہے ع قائم مقام صفت عالم یا علیم کی ہے اور ص قائم مقام صفت صادق کی ہے (فتح البیان سورۃ مریم زیر آیت کھیعص) گویا ان مقطعات میں خدا تعالیٰ کی صفت کافی صفت ہادی صفت عالم یا علیم اور صفت صادق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔حضرت علیؓ کی بھی ان الفاظ کے متعلق ایک روایت آتی ہے جو ان معنوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی کٓھٰیٰعٓصٓ میں صفات الٰہیہ کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے۔وہ روایت یہ ہے کہ