تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 20
نتیجہ انہی کے لئے اچھا ہو گا جو ان امور سے توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی باتوں کو سنیں گے۔( فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ سےهَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا تک) پھر بعد الموت کا چونکہ اس زمانہ میں سب سے زیادہ انکار ہونا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کیا اور پھر ان کے انکار کا ذکر کر کے دلیل دی کہ مابعد الموت زندگی کوئی عجیب شئے نہیں ایسا ضرور ہوگا اور مجرم ضرور سزا پائیں گے اور نیک نجات حاصل کریں گے (وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ سے نَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا تک) پھر سچائی کے دشمنوں کا ایک حربہ بیان کرتا ہے کہ جب اخروی سزا کا ذکر کیا جاتا ہے تو منکر کہتے ہیں کہ قیامت کی بات تو قیامت کو دیکھی جائے گی اب کس کا حال اچھا ہے، کس کی دولت زیادہ ہے، کس کے افراد زیادہ ہیں۔فرماتا ہے ہمیشہ سے سچائی آہستہ آہستہ ترقی کرتی رہی ہے جب تک وہ وقت نہ آئے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دلیل کس کے ساتھ ہے اور قربانی اور نیک نمونہ کس کے ساتھ ہے جس کے ساتھ دلیل ہو اور جس کے ساتھ نیک نمونہ ہو۔ظاہر ہے کہ اس دنیا میں بھی آخر وہی جیتے گا۔(وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ سے وَ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا تک) اس کے بعد فرماتا ہے منکرین صداقت ہمیشہ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور شرک کو تقویت کا موجب سمجھتے ہیں مگر شرک ہمیشہ ذلت اور شکست کا موجب ہوتا ہے۔وہی چیزیں جن کو لوگ تقویت کا موجب بتاتے ہیں ان کی کمزوری کا موجب ثابت ہوتی ہیں۔(وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً سےيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا تک) پھر فرماتا ہے کہ جب دلائل سے کافر عاجز آ جاتا ہے تو دھینگا مشتی پر اتر آتا ہے مگر اس کی پروانہ کر آخر یہ دھینگا مشتی ہی تو دنیوی غلبہ کا سبب بنے گی۔دشمن دھینگا مشتی نہ کرے تو اسلام کو دنیوی غلبہ کس طرح حاصل ہو گا(یعنی اسلام جارحانہ لڑائی کی اجازت نہیںد یتا۔پس اس کے غلبہ کا ذریعہ یہی بن سکتا ہے کہ دشمن ظلم پر اتر آئے) جب وہ ظلم پر اترے گا تو مسلمانوں کو بھی لڑنے کی اجازت ہوگی۔اور چونکہ دشمن خدا تعالیٰ کو عقیدۃً بھی ناراض کر چکا ہو گا خدا تعالیٰ کی مدد سے مسلمان جیت جائیں گے (اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ سے سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا تک) پھر فرماتا ہے کہ یہودپر کلام عبرانی زبان میںنازل ہوتا تھا لوگ یہ نہ اعتراض کریں کہ اب عربی زبان میں کلام کیوں اترا ہے۔ہر قوم سے اس کی زبان میں کلام ہونا چاہیے تاکہ آسانی سے تبلیغ ہو سکے اور دوست دشمن سمجھ سکیں اور کفار پر حجت تمام ہو۔ہماری طرف سے سزا حجت کے بعد ہی دی جاتی ہے اور وہی سزا عبرتناک ہوتی ہے (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَسےتَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا تک)